خطبات محمود (جلد 2) — Page 312
۳۱۲ سو میں سے کتنے ہیں جنہوں نے وہاں جانے کے لئے اپنے نام پیش کئے ہیں۔ کیا ایک فیصدی لوگوں نے اب تک اپنے نام پیش کئے ہیں کیا۔ فیصدی لوگوں نے اب تک اپنے نام پیش کئے ہیں ؟ کیا فیصدی لوگوں نے ہی اب تک اپنے نام پیش کئے ہیں ؟ اگر اتنے لوگوں نے بھی اپنے آپ کو پیش نہیں کیا تو کونسی قربانی ہے جس کا تم نمونہ دکھا رہے ہو۔ آخر خدا تعالے کے عذاب سے محفوظ رہنے کے لئے نیکی اور تقویٰ اور قربانی کی کوئی نسبت تو ہونی چاہیئے۔ جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تو خدا تعالیٰ کے بعض مرسل پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کی خبر دینے کے کے لئے گئے۔ قرآن کریم میں بھی اس کا اس کا ذکر آتا ہے ہے اور بائبل میں بھی اس کا ذکر آتا ہے جبکہ مگر بائبل چونکہ تاریخی کتاب ہے، اس لئے اس میں زیادہ تفصیل سے یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے مرسلوں سے خبر سن کر چاہا ۔ کہ اللہ تعالے سے درخواست کریں کہ وہ لوگ کی قوم کو اس عذاب میں مبتلا نہ کرے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ خبر سنتے ہی ایک گوشے میں چلے گئے ۔ اور انہوں نے دعا کی کہ الہی ان بستیوں میں تیرے بڑے بڑے نیک بندے بھی بستے ہیں۔ کیا تو ان نیک لوگوں کو بھی بدوں کے ساتھ تباہ کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ۔ اسے ابراہیم با ان بستیوں کے رہنے والوں نے بڑا ظلم کیا ہے ۔ ہمارے بندے لوط نے انھیں بڑا سمجھایا مگر وہ باز نہیں آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا۔ اسے میرے خدا ! بے شک یہ بڑے ہیں۔ مگر تیرا رحم بھی تو بہت بڑا ہے ۔ یہ کتنے ہی گندے اور ناپاک کیوں نہ ہوں تیرا ر حسم تو بہر حال گا سب پر غالب ہے۔ اور اے میرے رب ! میرے رب ! کیا تیرے قانون میں بھی یہ بات داخل ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی سپس جائے ۔ اگر یہ لوگ بڑے ہیں تو ان میں کچھ نیک لوگ بھی ضرور ہوں گے کیا ان نیکوں کا لحاظ بھی نہیں کیا جائے گا اور کیا اگر ایک سو بھی ان میں نیک لوگ موجود ہوں نوان کی خاطر اس عذاب کو دور نہیں کر دیا جائے گا ۔ او اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ابراہیمی اگر ان لوگوں میں سو بھی نیک آدمی ہوں تو میں اس بستی کے لوگوں کو کبھی تباہ نہیں کروں گا۔ تب اپرا ہمیں سمجھ گیا کہ اس بستی میں سو بھی نیک آدمی نہیں ہیں اور اس نے کہا۔ اسے میرے رب سو کیا اور نوے کیا ۔ اگر پورے۔ پورے سو نہ ہوں اور نوے نیک ہوں۔ تو کیا دس کی کمی کی وجہ سے تیر ار حسم آئے نہیں آئے گا اور وہ ان لوگوں کو تباہی سے نہیں بچائے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے کہا۔ ابراہیم ! اگر نوے بھی نیک آدمی ہوں تو میں ان کی خاطر اس بستی کو تباہ نہیں کرونگا تب ابراہیم نے کیا خدایا توے کیا اور راستی کیا۔ نوے اور اپنی کا فرق تو بہت معمولی بات ہے ۔ اتنے معمولی سے فرق کی وجہ سے تو ان پر عذاب نہیں آنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا۔ ان میں اسی بھی