خطبات محمود (جلد 2) — Page 310
۳۱۰ کی راہ میں ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے بجرے کو رکھا تھا مگر ہم تمثیل کو قبول کرتے ہیں اور حقیقت کو رد کرتے ہیں ۔ ہماری زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں۔ ہماری اولادوں کی زندگیاں گزرتی چلی ری کی جاتی ہیں، ہمارے بھائیوں کی زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں۔ ہمارے ہمسایوں کی زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں۔ مگر ہم میں سے کوئی بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی پیشین نہیں کرتا لیکن ہم میں سے ہر شخص ابراہیم کے بکرے میں سے گوشت کھانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ۔ یہ تو وہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی پور بیا مر گیا۔ وہ آسودہ حال تھا اور روپیہ کا استعمال صحیح طور پر کرتا تھا کہیں تجارتوں میں اس نے اپنا روپیہ لگایا ہوا تھا۔ کہیں سود پر روپیہ دیا ہوا تھا۔ کہیں قرض دیا ہوا تھا ۔ اس کی وفات کے بعد یوریوں کے دستور کے مطابق فاتحہ ما تم شروع ہوا۔ پوریوں میں دستور ہے کہ تمام پوربی جمع ہو جاتے ہیں اور عورت بکن ڈالنا شروع کرتی ہے جس میں وہ اپنی مشکلات کا ذکر کرتی ہے اور اور قوم ان مشکلات کا جواب و دیتی ہے ہے گویا وہ ایک قسم کا مشورہ ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے حالات کا ذکر کرتی جاتی ہے اور قوم اسے جواب دیتی جاتی ہے۔ اس طرح سب لوگوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آئندہ یہ بیوہ اور نیچے کس طرح زندگی بسر کریں گے۔ اسی رواج کے مطابق اس پوربی عورت نے بین ڈالنے شروع کئے۔ کہ ہائے میرے خاوند کے اتنے روپے فلاں کے ذمے تھے اب وہ روپیہ کون وصول کرے گا اس پر ایک پور بیا آگے بڑھا اور اس نے کہا ہم رے ہم۔ پھر اس نے بین ڈالا اور کہا اتنا روپیہ اس نے تجارت پر لگایا ہوا تھا، اب کون اس روپیہ کوئے گا۔ نے گا۔ اس پر وہ پھر کھڑا ہوا اور کہنے لگا ہم رہے ہم۔ پھر اس نے روتے ہوئے کہا کہ فلاں شخص کو اس نے اتنا روپیہ سود پر دیا ہوا تھا اب کون اس سے روپیہ وصول کرے گا۔ اس پر وہ پھر بول اٹھا کہ ہم رہے ہم۔ غرض جننی وصولیاں تھیں وہ اس نے بیان کرنی شروع کر دیں اور ہر وصولی کے ذکر پر وہ پور یا فورا جواب دیا کہ ہم رہے ہم۔ اس کے بعد اس نے ذمہ داریاں بیان کرنی شروع کیں اور کہا کہ اس نے فلاں کا انتشا روپیہ قرض دیا تھا۔ اب وہ کون دیگا ؟ پر وہ پور بیا اپنی قوم کے دوسرے افراد کی طرف منہ کر کے کہنے لگا۔ کہنے لگا ۔ ارے میں ہی جواب دیا جاؤں یا کوئی اور بھی بولے گا۔ گویا جب تک وصولیوں کا ذکر تھا وہ ہر وصولی کے ذکر پر آگے بڑھتا اور ر کہنا ہم رہے ہم۔ اور جب قربانی کا وقت آیا تو کہنے لگا ارے میں ہی بولتا جاؤں یا کوئی اور بھی بولے گا یہی حال ہمارا ہے ، جب بکرے کے گوشت کھانے کا وقت آتا ہے تو ہم کہتے ہیں اسے ہم ر ہم اور جب بیٹے کی قربانی کا وقت آتا ہے تو ہم بھی اس پوریئے کی طرح یہ کہنے لگ جانتے ہیں کہ اسے اس کوئی اور بھی بولیگا یا ہم ہی بولتے چلے جائیں۔ ہمیں غور کرنا چاہیئے، کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوتے ہے جائیں۔ میں خود کرنا چاہئیے کہ حضرت بر ام علیہ اسلام کی کونسی قربانی تھی جس کی یاد تازہ رکھنے کے لئے ہر سال عید منائی جاتی ہے۔ کیا ہر سال اس لئے