خطبات محمود (جلد 2) — Page 307
ранов اسی لئے اس نے حضرت ابراہیم علیہ سلام کو یہ نظارہ دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کر رہے ہیں اس طرح دونوں فائدے ہو گئے۔حضرت ابراہیم علیہ التلامہ کے ایمان کا بھی ایک روشن ثبوت دنیا کو مل گیا اور دوسری طرف ہمیشہ کے لئے یہ بات مذہب کا جزو بن گئی کہ انسان کی قربانی کسی صورت میں بھی جائزہ نہیں ، خواہ وہ اپنا جیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ی عید اس خوشی میں منائی جاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی خدا تعالے کی راہ میں پیشی کی لیکن ہماری یہ حالت ہے کہ ہم ان کے دنبہ کی قربانی کو تو یاد رکھتے ہیں لیکن ہمارا ذہن اس طرف بالکل نہیں جاتا کہ ہم کس چیز کی یاد مناتے ہیں اور کس چیز کی یاد بھیا اتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو قربانیاں تھیں۔ایک وہ قربانی جو انہوں نے اپنے بیٹے کی کی اور ایک وہ قربانی جو انہوں نے بکرے کی کی۔بکرے کی قربانی محض یادگار کے طور پر تھی تا کہ جو حقیقی قربانی انہوں نے پیش کی تھی اس کی ایک ظاہری شکل بھی پیدا کر دی جائے۔اصل قربانی ان کی یہی تھی کہ انی اسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِی زرع عبے میں اپنی نسل کو خدارا واحد کی یاد اور اس کے ذکر کے لئے ایک ایسی جگہ بسا دیا ہے جہاں دنیوی آمد کا کوئی ذریو نہیں اور جہاں کی زندگی دنیوی مال و متاع کے کمانے میں محمد نہیں ہو سکتی۔یہ قربانی تھی جو حضرت ابر انسیم علیہ السّلام نے کی لیکن اس کی یاد کے طور پر خدا تعالے نے یہ بھی فرما دیا کہ تم بڑے کی قربانی کرو۔(اس موقع پر ایک احمدی نوجوان نے کھڑے ہو کر حضور کا فوٹو لینا چاہا۔اس پر حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔اور اس نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔میاں اپنے کیریکٹر مسلمانوں والے بناؤ۔یورپ تمہارا آقا نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے آتا ہیں۔کہیں تم نے پڑھا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔کیا چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کے پیچھے تم پڑے ہوئے ہو۔تمہیں بتایا یہ جا رہا ہے کہ تم اتخیل کی طرح اپنی جانیں قربان کرو اور تم کام وہ کرتے ہو جو محض تعیش کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ نہ تم میری ہیں سنتے ہو اور نہ ضرورت سمجھتے ہو کہ سُنو۔اگر میرے ایک لفظ پر بھی تم عمل کر لو تو تمہاری اور تمہاری اولادوں کی زندگی سنور جائے۔لیکن اگر میرا دس ہزار فوٹو بھی تمہارے پاس موجود ہو تو وہ تمہیں ایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فوٹو ہمارے پاس نہیں ، پھر تمہیں کیا نقصان ہو گیا۔اسی طرح اگر میرے فوٹو مٹ جائیں گے تو کیا نقصان پہنچ جائے گا ، اس کے بعد پھر سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا ہو۔