خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 306

۳۰۷ ۳۷ و فرموده ۱۴ اکتو بر شراء بمقام منٹو پارک لاہو) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ تھا کہ عید الاضحیہ کے موقع پر آپ نماز کے بعد اس قربانی کے گوشت سے جو آپ پیش کرتے تھے ناشتہ فرماتے تھے یہ اس لئے عید الاضحیہ کا خطبہ الفرنظر کی نسبت مختصر کیا جاتا ہے ۔ تا کہ جو لوگ اس سنت اور تعامل کی اتباع کرنا چاہیں وہ اس پر عمل کر سکیں۔ گو شہروں میں یہ بات آجیل نا ممکن ہو گئی ہے بوجہ اس کے کہ قربانیاں قریب میں نہیں کے کہ قریب کی جا سکتیں۔ دوسرے اتنے بڑے بڑے شہر بن گئے ہیں کہ باہر جا کر نماز پڑھنے اور پھر واپس آنے ہیں ہی بارہ ایک بچ جاتے ہیں۔ یہ عید جو عید الاضحیہ کہلاتی ہے یعنی قربانیوں کی عید کسی طرح شروع ہوئی اور کسی واقعہ کی یاد میں مقرر ہوتی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو تمہیشہ مسلمانوں میں بیان ہوتا چلا آیا ہے اور قریبا تمت م تعلیم یافتہ لوگ اس سے واقف ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی ایک رویا کی بناء پر ایک ارشاد الہی کی بناء پر۔ اور خدا نے ان کے اس فعل کو پسند فرما کر حکم دیا کہ تم اجرے کی قربانی کرو ۔ بیٹے کی قربانی نہ کرو یہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں که حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اللہ تعالے کی طرف سے جو یہ دکھائی دیا تھا کہ اپنے جو یہ بیٹے کو قربان کر رہے ہیں اس اس کی کیا تیرتی تعبیر تھی۔ میں بارہا میں بار ہا یا بتا چکا چکا ہوں ہوں تر کہ بیٹے کی کی قربانی قربانی کا کا میطلب نہیں تھا کہ چھری لے کر اپنے بیٹے کو ذبح کر دو بلکہ مطلب یہ تھا کہ دین کی خدمت کے لئے اپنے بیٹے کو وقف کر دو۔ دنیوی ترقیات کے رستہ کو چھوڑ دیا۔ دنیوی قوتوں پر لات مار دینا اور دنیوی کامیابیوں کے حصول کے تمام ذرائع کو نظر انداز کر دیا ایک بہت بڑی موت ہوتی ہے جو بسا اوقات دوسری موت سے زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ دوسری موت کو تو قبول کر لیتے ہیں لیکن اس موت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ کیونکہ اس میں احساس اذیت بہت لمبا ہوتا ہے اور ایک لمبے عرصہ تک انسان کو تکالیف میں مبتلا رہنا پڑتا ہے۔ بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس زمانہ کے لحاظ سے خدا تعالے کے حکم اور ارشاد زمانہ کے سے تعالے۔ کو جس رنگ میں سمجھا اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ اس زمانہ میں چونکہ عام طور پر انسانوں کی قربانیاں کی جاتی تھیں اس لئے وہ بھی اپنے بچے کو ظاہری رنگ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ وہ انسانی قربانی کسی نبی کے ذریعہ سے روک دے۔ اور