خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 304

۳۰۴ کے ساتھ قربانیاں کردیا۔ لئے گذشتہ جنگ عظیم میں ایک جرمن بڑھیا کے متعلق اخبارات میں شائع ہو ا تھا کہ اس کے سات بچے تھے اور اس نے ساتوں کے ساتوں بچے ملک کی خدمت کے لئے میدانِ جنگ میں بھیج دیئے ۔ اور پھر سارے کے ساسے مارے گئے جب اس کا آخری کچھ بھی مارا گیا تو گورنمنٹ کی طرف سے وزیر کو ہدایت کی گئی کہ وہ کا گئی کہ وہ اس بڑھیا سے خود اظہار ہمدردی کرے جب اسے بلا کر بتایا گیا کہ اس کا آخری بیٹیا بھی جنگ میں مارا گیا ہے تو ایک طرف غم کے مارے اس کی کمر جھکی چلی جارہی تھی اور دوسری طرف اس خیال سے کہ اس کا بیٹا ملک کی خدمت کرتے ہوئے مارا گیا ہے اس نے کوشش کر کے اپنی کمر سیدھی کی اور پھر اپنے چہرہ کو خوش بناتے ہوئے فقہ لگایا اور کہا۔ کیا ہوا اگر میرا بچہ مارا گیا ہے وہ ملک اور قوم کی خاطر مارا گیا ہے لیکے اگر ایک عورت کا فرعورت، ایسی قوم کی عورت جو توحید کے علم سے نا واقف تھی جو عدالتی کافر ، کی کی محبت اور اس کے پیار سے نا واقف تھی ۔ ملک کی خاطر اپنے ساتوں بیٹے قربان کر سکتی ہے اور پھر اپنے آخری بچہ کی وفات پر اپنی کمر کو سیدھا کرتے، اور اپنے چہرہ پر خوشی کے آثار ظاہر کرتے ہوئے قہقہہ لگا کر کہتی ہے کہ کیا ہوا اگر میرا بیٹا مارا گیا ہے۔ وہ قوم اور ملک کی خدمت کرتا ہوا مارا گیا ہے تو ایک زندہ قوم ایک موحد قوم ایک خدا سے تعلق رکھنے والی قوم اور رات اور دن تو ، موحد ، " رات خدا تعالے کے معجزات اور نشانات دیکھنے والی قوم کو کس طرح خوشی سے اللہ تعالے کی طرف سے آنیوالے مصائب برداشت کرنے چاہئیں۔ اگر وہ خدا تعالے پر سچا ایمان رکھتی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ ہر مصیبت پر رضا بالقضا کا اعلیٰ نمونہ دکھائے ۔ اپنے آپ کو کلی طور پر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ڈال دے اور اس کے لئے مرنا خندہ پیشانی سے قبول کرے ۔ اگر وہ ایسا کر گیا تو دنیا کی کوئی طاقت اسے ہلاک نہیں کر سکے گی کیونکہ جو لوگ خدا کے لئے مرتے ہیں انہیں کوئی شخص مار نہیں سکتا۔ وہ ایک تنومند درخت کی طرح دنیا میں بڑھتے اور پھیلتے اور پھولتے ہیں جس کی جڑیں ایک طرف زمین کی پاتال تک چلی جاتی ہیں اور دوسری طرف اس کی شاخیں آسمان تک پھیل جاتی ہیں ۔ اب یکی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے اپنے فضل سے ہمیں سچی فرمانبرداری کی توفیق عطا فرہاہے اور بغیر کسی ملاوٹ کے اپنا خالص عشق عطا کرے ۔ ہمارے دلوں پر وہ آپ جلوہ گر ہو۔ اپنا چہرہ ہم پہ روشن کرے۔ ہماری تاریکیاں ہم سے دور کرے اور اپنا نور ہمارے لئے ظاہر فرماے آمین اللهم آمین والفضل یکم نومبر ۶۸۹۳) (