خطبات محمود (جلد 2) — Page 303
٣٠٣ تیرا باپ مارا گیا ہے۔ تیرا بیٹا مارا گیا ہے ۔ یا رسول اللہ ! آپ کے زندہ ہوتے ہوئے کسی اور کی مجھے پرواہ ہی کیا ہے یہ تو دیکھو دیکھو رسول رسول کریم کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وسلم کی کی محبت محبت ان لوگوں کے ولوں میں کتنی تھی اور کتنا عشق تھا جو ان لوگوں کے قلوب میں پایا جاتا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ہی ایک مومن کو نسبت کا اصل ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے ۔ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بہت بڑے محبوب ہیں مگر خدا ہمیں آپ سے بھی زیادہ پیارا ہے۔ اگر اس عورت کو اپنے خاوند کی موت، اپنے باپ کی موت، اپنے بیٹے کی موت اور اپنے بھائی کی موت رسول کریم صلی الہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں پریشان نہیں کر سکتی تھی تو ہمیں اپنے زندہ خدا کی موجودگی میں کوئی مصیبت کی طرح پریشان کر سکتی ہے۔ اگر ہمارا نقصان ہو جائے تو ہمیں سمجھنا چاہئیے کہ ہمارے خدا کا ایسا ہی ارادہ تھا۔ اور یہیں راضی برضا رہ کر اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا چاہیے ۔ لیکن اگر بفرض محال ہمارا خدا ہی ہمیں مارنے پر تلا ہوا ہے تو پھر تمہیں کوئی طاقت موت سے بچا نہیں سکتی ۔ اس صورت میں ہمارا اپنے متعلق فکر کرنا نادانی اور حماقت ہے۔ بہر حال دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہے اگر ہمارے خدا نے ہماری موت کا فیصلہ کر دیا ہے تو پھر کوئی راستے ہمیں اس موت سے بچا نہیں سکتی۔ اس صورت میں غم میں مبتلا رہنا بالکل فضول ہے۔ اور اگر ہمارے خدا نے ہمیں زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے تو اس صورت میں بھی ہمارا گھبرانا اور پریشان ہونا ہیو قوفی اور پاگل پن کی بات ہے۔ بے شک غموں اور مصیبتوں کے وقت خوشی کا اظہار مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک مشاطہ ۔ ایک نائی اور ایک دھوبی تھوڑے سے پیسوں کی خاطر اپنے آقا کے سامنے اپنے چہرہ کو اس لئے ہشاش بشاس بنا لیتے ہیں کہ کہیں ان کے تعلقات اپنے آقا سے خراب نہ ہو جائیں تو کیا ہمارا فرض نہیں ہے کہ جب خدا نے ہماری جماعت کے لئے ایک عید تجویز کی ہے تو ہم مصائب کے دوران میں بھی خوشی کے ساتھ اس عید کو منائیں اور ہشاش بشاش چہروں کے ساتھ اپنے رب کی عطا کردہ خوشی میں شریک ہوں ۔ عبد الاصفیہ کے معنے ہیں قربانیوں کی عید جس کا دوسرے الفاظ میں یہ مفہوم ہے کہ قربانیوں پر لوگ رویا کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہارا اس طرح امتحان لوں گا کہ تم قربانی کرد اور ہنسو ۔ اور اگر ہمارا خدا چاہتا ہے کہ ہم ہنستے ہوئے اس کے حضور قربانی پیش کریں تو ایک مومن کی حیثیت سے، ایک عاشق کی حیثیت سے ایک محبت کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم قربانی کریں اور سنتے ہوئے کریں۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں آج کی عید کی حکمت کو کبھی نہیں بھولا پایا ہے۔ یہ حید بتاتی ہے کہ مسلمانوں کو قربانیاں کرنی پڑیں گی اور ان کا فرض ہو گا کہ وہ ہلتے ہوئے چہروں