خطبات محمود (جلد 2) — Page 23
۲۳ حاصل ہوا ہے ۔ جنہوں نے نہیں کیں بلکہ پھر گئے انہوں نے کیا کچھ نقصان اٹھایا ہے۔ اخیر پر لیکن پھر بتا دیتا ہوں کہ عیدیں کوئی کھیل نہیں ، میلہ نہیں ، تماشا نہیں ۔ اسلام کی ہر بات میں حکمت ہوتی ہے۔ پس عید میں بھی ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ عید بھی ایک بہت بڑی علامت ہے اور وہ یہ کہ عیلام میں بات بتانے کے لئے آتی ہے کہ خدا تعالے کے لئے جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے وہ کبھی صنائع نہیں جاتا بلکہ کئی گنا ہو کر ملتا ہے ۔ پس جو لوگ خدا کے لئے خرچ کرنے میں سست ہیں ۔ وہ چست ہو جائیں تا کہ خدا تعالے کے لئے ہر قسم کی قربانی کریں ۔ اور جو چیت ہیں وہ اور تیز ہو جائیں کہ اس راستہ میں جس قدر تیزی دکھائی جائے اسی قدر زیادہ لمبندی حاصل ہوتی ہے۔ خدا تعالے ہماری جماعت کو اس بات پر عمل کرنے کی توفیق دے اور عید سے سچی قربانی کرنے کا سبق سکھائے ۔ آمین ۔ ہے ۔ ابراہیم ۱۴ : ۳۶ تا ۲۴۰ له - الصفت ، ٣: ١٠٣ ت الصفت ١٠٨:٣٠ المفضل ۲۴ اکتوبر نه ده تا ۹) ۶۱۹۱۶ ہے ۔ پیدائش باب ۲۲ - آیت ۱۲ - ۱۳ میں عبارت اس طرح ہے : ۔ اور ابراہام نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے تب ابرا نام نے جا کر اس مینڈھے کو پکڑا ۔ اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا ۔ ہے۔ مکہ مکرمہ سے تین میل کے فاصلہ پر عرفات کی جانب ایک بستی کا نام ہے جہاں حاجی قربانی کرتے اور تین چھوٹے چھوٹے مینار (جمرات پر سانہ سات سات کنکریاں ما یاں مارتے ہیں ۔ ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا رسورہ ابراہیم ۱۴ : ۳۰) کی نیہ کی قبولمیت کے نشان ۔ زهرم حجر اسود کے سامنے مطاف کے کنارے پر آ رے پر ایک کنواں ہے۔ حضرت اسمعیل علیہ اسلام کے زمانہ میں یہ ایک چشمہ تھا۔ پھر رفتہ رفتہ گرا ہوتے ہوتے کنواں بن گیا۔ اب اس کا فرض ہر گز اور گرائی وہ گز ہے ۔ اور یہ نام اس کے پانی کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اتبع بجا الانوار جلد ۲ مش ) ث - صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب يزفون النسلان في المشي ۔ پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۴ تا ۱۹