خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 299

۲۹۹ مدد کی جائے ، وہ نام تو یہ رکھیں گے کہ حجاز ریلو ے کی مدد کی جائے، وہ نام تو یہ رکھیں گے کہ ریفیوجیز (REFUGEES) کی مدد کی جائے مگر جب خرچ کریں گے تو اس خانہ میں سے خرچ کریں گے جو خدا نے اپنے لئے رکھا تھا حالانکہ اگر انہیں ریفیوجیز کی مدد کا شوق تھا، اگر وہ یتیم خانوں کو روپیہ دینا چاہتے تھے اگر وہ حجاز ریلوے کی مدد کرنا چاہتے تھے تو وہ اپنے جیب سے کر سکتے تھے۔کیا قربانی کرنے کے بعد انسان کنگال ہو جاتا ہے اور کیا دوسرے کاموں کے لئے اس کے پاس کوئی روپیہ نہیں بچتا ؟ جب بچتا ہے تو خدا تعالے کے ایک حکم کو پس پشت ڈال کر اور کاموں پر روپیہ صرف کر دنیا کونسی دانائی اور عقلمندی ہے۔ایمان تو یہ تھا کہ جو کچھ خدا نے کہا تھا پہلے اس کو پورا کیا جاتا اور پھر اور کاموں پر روپیہ صرف کیا جاتا۔مگر خدا تعالنے کے حکم کو نظر انداز کر دینا اور دوسرے کاموں پر وہ روپیہ صرف کرنا جسے خدا تعالے نے اور جگہ خرچ کرنے کا حکم دیا ہوا تھا بتاتا ہے کہ مسلمان اسلام سے کسی قدر دور جا چکے ہیں اور وہ اللہ تعالے کے احکام کو کیسی ناقدری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اگر یتیم خانوں اور حجاز ریلوے اور ریفیوجیز کی مدد کا انہیں شوق ہی ہے تو وہ اپنی جیب سے کریں۔خدا تعالے کے حکم کو پس پشت ڈال کر کیوں کرتے ہیں کیا ہی ایک قربانی ہے جس پر امیر آدمی سارے سال میں روپیہ صرف کیا کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے پاس کوئی پیسہ نہیں رہتا۔جب کیوں نہیں کسینکڑوں کاموں کے لئے اس کے پاس روپیہ ہوتا ہے۔تو قربانی کے روپیہ کو دوسری جگہ کیوں صرف کیا جاتا ہے ؟ کیوں قربانی کا روپیہ قربانی پر صرف نہیں کیا جاتا اور باقی کاموں کے لئے اپنے پاس سے اوپر نہیں دیا جاتا ؟ قربانی پر اعتراض کرنا اور اسی روپیہ کو اپنے ذاتی کاموں پر صرف کر دنیا بتاتا ہے۔که مسلمانوں کو قربانی کی اہمیت کا کوئی احساس ہی باقی نہیں رہا۔وہ قربانی کی توفیق رکھنے کے با وجود چند روپے خرچ کرنا بھی اپنے اوپر بوجھ محسوس کرتے اور بکرے کی قربانی بھی موت کی طرح سمجھتے ہیں میگا ابراہیم علیہ السلام نے یہ نمونہ دکھا یا کہ اس نے اپنے بیٹے کی قربانی کو عید مجھے اس نے کہا مجھ سے زیادہ خوش قسمت انسان اور کون ہو سکتا ہے جسے اللہ تعالے نے اس فضل ہے نوازا اور وہ اپنے ہاتھ سے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور بچے وفادار کی یہی محلات ہوتی ہے ، وہ اپنے دوست اور محبوب کے لئے اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے کجا یہ کہ ایسا محبوب اور دلدار ہو جو نہ صرف محبوب اور دلدار ہو بلکہ انسان کا خالق اور مالک اور آقا بھی ہو۔قصہ مشہور ہے کہ ایک نوجوان اپنے باپ کا مال دوستوں کے ساتھ مل کر اڑانے کا عادی تھا۔ہر وقت اس کے ارد گر خوشامدیوں کا ہجوم رہتا اور وہ دن رات روپیہ کو برباد کرتے رہتے