خطبات محمود (جلد 2) — Page 298
۲۹۸ ذکر کیا ۔ وہ بیٹا بھی اپنے باپ کا سپوت بیٹا تھا۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمھیں ذبح کر رہا ہوں اور اب میں چاہتا ہوں کہ تمھیں واقعہ میں ذبح کر دوں تو حضرت اسمعیل علیہ السلام نے جواب میں کہا مجھے اور کیا چاہیے۔ جب خدا نے یہ حکم دیا ہے تو آپ شوق ہ السلام نے جواب میں سے اس حکم کی تعمیل کریں گے۔ چنانچہ بیٹا اپنے باپ کے سا کے ساتھ قربان ہونے کے لئے لئے چل پڑا ۔ جب حضرت ابراهیم علیه السلام نے اپنے بیٹے کو لٹا کر اس کے حلق پر چھری رکھ دی تو اللہ تعالے نے کہا۔ ابراہیم ! تو نے اپنا رو یا ظاہر میں بھی پورا کر دیا ہے کہ مگر ہمارا منشاء اور تھا۔ اب تم اس کی جگہ ایک دنبہ ذبح کر دو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں یہ عید ابراہیم کے اس واقعہ کی کی یادگار کے طور پر امتِ محمدیہ میں قائم کی گئی ہے کیا ہے یہ اب ہمیں غور کرنا چاہیئے کہ اس عید میں وہ کونسی چیز ہے جو یادگار سمجھی جا سکتی ہے ۔ یہ امر ظاہر ہے کہ یہ عید تبھی یادگار ہو سکتی ہے جب ابراہیم نے اسمعیل کو ذبح کرنا اپنے لئے عید سمجھا ہو ۔ اگر اسمعیل کی قربانی کو انہوں نے عید نہیں سمجھا تو یہ عید اس واقعہ کی یادگار بھی نہیں ہو سکتی ۔ یادگار اسی صورت میں کہلا سکتی ہے جب ابراہیم نے اسمعیل کی قربانی کو اپنے لئے عید سمجھا ہو۔ اور در حقیقت یہی سبق ہے جو اس عید کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ عید الاضحیہ ہمیں سبق دیتی ہے کہ ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کو مصیبت نہیں سمجھا۔ ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کو آفت نہیں سمجھا۔ ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کو ابتداء نہیں سمجھا بلکہ چونکہ وہ اپنے بیٹے کی قربانی کے لئے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت گیا تھا اس لئے اس دن ابراہیم ویسی ہی خوشی محسوس کر رہا تھا جیسے عید کے دن ہم بکرا ذبح کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں یا اگر ہم خود قربانی نہ کریں تو اپنے ہمسایہ کو قربانی کرتے دیکھ کر ہی جو خوشی محسوس کرتے ہیں ، ویسی ہی خوشی اس روز ابراہیم کا قلب محسوس کر رہا تھا۔ مگر افسوس کہ ابراہیم کی تو یہ حالت تھی کہ اس نے خدا تعالیٰ کے لئے ا لئے اپنے بچہ کو قربان کرنا بھی اپنے لئے عید سمجھا۔ اور مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ ان میں ۔ لہ ان میں سے بعض لوگ عید کے موقعہ پر موقعہ پر بکرا قربان کرنے کی توفیق رکھنے کے باوجود اس قربانی کو بھی بوجھ سمجھتے اور اس کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ میں نے خود کئی مسلمانوں کے مضامین اخبارات میں پڑھتے ہیں جن میں وہ لکھتے ہیں کہ قربانی پر بلا وجہ روپیہ ضائع کیا جاتا ہے ۔ کیوں نہ یہ روپیہ غرباء میں یں تقسیم کر دیا جائے یا کیوں نہ یتیم خانوں کو دے دیا جایا کرے یا کیوں نہ قومی ترقی کے کاموں پر اس روپیہ کو صرف کیا جائے میں ان سے رو اور کوئی نہیں کہتا کہ تمہاری جیب میں اور بھی تو پیسے ہیں ۔ تم خدا تعالٰے کے اس حکم کو پورا کرو پھر اس حکم کو پورا کرنے کے بعد جو کچھ تمہاری جیب میں بچے وہ یتیم خانوں کو دے دو یا قومی ترقی کے کاموں پر صرف کر لو۔ تمھیں اس سے کون منع کرتا ہے۔ مگر وہ نام تو یہ رکھیں گے کہ یتیم خانہ کی