خطبات محمود (جلد 2) — Page 297
۲۹۷ ہے کہ بسا اوقات وہ بازار میں سودا سلف خریدنے کے لئے جائیں گے تو دوکاندار سے بحث شروع کر دیں گے کہ اتنی قیمت ہمیں چھوڑ دی جائے گی۔ گویا وہ غرباء سے بھی روپیہ چھڑانے کے عادی ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے پاس سے کچھ دینے کی عادت مفقود ہوتی ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو اپنے اندر تقویٰ رکھتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی خشیت ان کے دلوں ؟ ن ان کے دلوں میں پائی جاتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں عام طور پر مزدور پیشہ لوگ اپنے آقاؤں سے عناد رکھتے ہیں کیونکہ مالک ان کا حق مارنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور انصاف اور حسن سلوک سے کام نہیں لیتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے یہ معاملہ نہیں اللہ تعالیٰ کسی کا حق نہیں مارتا۔ کیونکہ دہ گنتی ہے اور نہ صرف غنی ہے بلکہ صمد بھی ہے۔ عنی کے معنے ہیں جس کو خود کسی کی احتیاج نہیں اور محمد کے معنے ہیں جس کو خود کسی کی احتیاج نہیں اور جو دوسروں کی احتیاج کو پورا کرتا ہے۔ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - الله الحمد میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ خود کسی کا محتاج نہیں اور دوسروں کی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے۔ ایسے آقا کی شان کا مقابلہ دوسرے لوگ کہاں کر سکتے ہیں۔ اور جب ہمارا آقا اس شان اور عظمت کا ہے تو ایک مومن کو ہمیشہ اپنے آقا کے منشاء اور اس کے مقصد کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اور اپنے مقاصد کو اسی طرح بھول جانا چاہیئے جس طرح عام ملازمت پیشہ لوگ اپنے آقا کی خوشی میں اپنے غموں کو بھول جاتے ہیں۔ آج کی عید اس بات کا سبق اپنے اندر رکھتی ہے کہ اپنے آقا کی خوشی اور اس کی مرضی کے موقع پر انسان کو اپنا غم بالکل بھول جانا چاہیئے حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کی یاد گا یہ کے طور پر یہ عید مقرر کی گئی ہے انہیں اللہ تعالی نے فرمایا کہ تو اپنا اکلوتا بیان بچ کر دے تے ابراہیم نے اس خواب کے معنے یہی سمجھے کہ مجھے ظاہری طور پر اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہیئے اور انہوں نے عملی طور پر اپنے بیٹے کے حلق پر اس کو ذبح کرنے کے لئے چھری رکھ دی ہے اپنے بیٹے کا اپنے ہاتھوں حلق کاٹنا تو دور کی بات ہے۔ اپنے بچے کی موت کی خبر سننا بھی باپ کے لئے بہت تلخ ہوتا ہے۔ پھر باپ کے سامنے اپنے بیٹے کا مرنا اور ابھی تلخ ہوتا ہے۔ اور بیٹے کا باپ کی غلطی کی وجہ سے مر جانا اس سے بھی زیادہ تلخ ہوتا ہے۔ مگر بیٹے کا اس کی اجازت سے مارا جانا اس سے بھی تلخ تر ہوتا ہے۔ اور بیٹے کو لٹا کر اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا اور بھی تلخ ہوتا ہے لیکن باوجود اس انتہائی تلخی اور مرارت کے ابراہیم نے تعبیر کی کوشش نہیں کی بلکہ جب خدا تعالے نے کہا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرو تو ابراہیم نے ہی مجھ کہ مجھے اس حکم کی ظاہری طور پر تعمیل کرنی چاہئے اور اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر دینا چاہیئے ۔ انہوں نے سمجھا یہ ایک انعام ہے کہ میں خدا تعالے کے ایک حکم کو پورا کرنے لگا ہوں اور انہوں نے اپنے بیٹے کو بلا کر اُس کا