خطبات محمود (جلد 2) — Page 295
۲۹۵ ۳۶ د فرموده ۲۶ اکتوبر ۱۹۳۴ء بمقام منٹو پارک لاہور دنیا کی ہر چیز میں ایک نسبت پائی جاتی ہے اور نسبتوں کو نظر انداز کر دیا کبھی بھی انسان کے لئے سکھ کا موجب نہیں ہوتا۔ اپنے اپنے مقام پر ہر چیز کی ایک اہمیت بھی ہوتی ہے اور اپنے اپنے مقام پر ہر چیز دو سہرے کے لئے قربان بھی کی جاتی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ كُتّامَ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِه ی تم میں سے ہر شخص ایک نگر ان کی حیثیت رکھتا ہے اور جو چیزیں اس کے سپرد کی گئی ہیں ان کے متعلق وہ خدا تعالٰی کے سامنے جواب دہ ہوگا ۔ اب كُلكم راع کے الفاظ بتاتے ہیں کہ نسبت کا اصل بالکل درست ہے۔ کیونکہ كُنكُم راع سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ بادشاہ بھی ایک راعی ہے اور اس سے رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں نہیں فرمایا کہ صرف بادشاہ راعی ہے بلکہ فرمایا ہے مُنكُمْ رَاعٍ تم میں سے ہر شخص ایک ساعی کی حیثیت رکھتا ہے پس بادشاہ ہی نہیں ایک وزیر بھی راعی ہے اور اسے اللہ تعالے کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا مگر اس کے ساتھ ہی وہ اپنے بادشاہ کے سامنے بھی جوابدہ ہے۔ پھر گورنر بھی راعی ہے اور اپنی رعایا کے متعلق اسے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا پڑے گا مگر اس کے ساتھ ہی وہ وزیر کے سامنے بھی جوابدہ ہے ۔ پس كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ نے بتادیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نسبت کے اصل کو تسلیم فرماتے ہیں اگر نیت کے اصل کو تسلیم نہ کیا جائے تو ایک ہی راعی ہو گا مگر آپ فرماتے ہیں تم میں سے ہر شخص ایک راعی کی حیثیت رکھتا ہے یہاں تک کہ خاکروب بھی اپنی جگہ ایک راعی ہے اور چرواہا جو بکریاں چراتا ہے وہ بھی اپنی جگہ راعی ہے اسی طرح مرد بھی راعی ہے اور عورت بھی بلکہ بچے بھی اپنے اپنے مقام پر راعی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ کوئی انسان اسیا نہیں ہوتا جس کے سپرد کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ باعی کے معنے ضروری نہیں کہ ایسے شخص کے ہوں جس کے سپرد آدمی ہوں۔ اگر ایک چرواہا اپنے پاس صرف بھیڑ بکریاں رکھتا ہے تو اس سے بھی ان کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ بچوں کو کھلونے لے کر دیئے جاتے ہیں تو مائیں اپنے بچوں سے پوچھتی ہیں کہ تم نے فلاں کھلونا کیوں ضائع کر دیا۔ یا فلاں دن تمھیں گڑا یا خرید کر دی گئی تھی وہ تم نے کیوں