خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 293

۲۹۳ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں ان سب باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم ان پر عمل کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کو پورا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالے ہمیں بھی اور دوسرے تمام مسلمان کہلانے والوں کو بھی موجودہ مشکلات اور تکالیف سے اور جو تغیرات زمانہ میں رونما ہو رہے ہیں ان سے بھی اپنی حفاظت میں رکھے۔دوسرے مسلمان گودہ احمدی نہیں ہیں لیکن چونکہ وہ بھی محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیواؤں میں ہیں اس لئے وہ بھی ہماری دعاؤں میں شامل ہیں۔میں نے آج اس مضمون پر جو اپنے اس خطبہ میں مسلمانوں کے متعلق شروع کیا تھا زیادہ زور اس لئے نہیں دیا کہ کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچ جائے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے سے چھیڑا نے نعمت بادِ بہاری راہ لگ اپنی تجھے اٹھکیلیاں کو کبھی ہیں ہم بیزار مجھے میں نے میرے نزدیک صحیح طریق یہی ہے کہ خدا تعالے کے حضور رات دن دُعائیں کی جائیں کہ وہ اپنے فضل اور کرم سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت کو بچالے اور مسلمانوں کو ہدایت دے کہ وہ مسیح محمدی کو قبول کر کے اُنکی بے چینی اور بے آرامی کی حالتوں کو راحت اور آرام سے بدل لیں۔اب یکیں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالئے ہم پر اپنے انعامات نازل فرمائے میں نے جو خواب چند دن ہوئے عید کے دن کے متعلق دیکھی تھی ، وہ اپنے ظاہری رنگ میں تو پوری نہیں ہوئی اور خدا تعالے کے فضل سے دنگہ اور فساد بھی نہیں ہوا اور بادل بھی نہیں آئے۔اگر بادل آجاتے تو سم سمجھے جاتے کہ وہ خواب اپنے ظاہری رنگ میں پوری ہو گئی ہے۔شاید خدا بقالے کے نزدیک اس خواب والی تاریکی سے وہ تاریکی مراد ہو جو آجکل کے مسلمانوں پر چھائی ہوئی ہے اور ہر طرف مسلمانوں کو ذلت نصیب ہو رہی ہے اور ان سیاہ بادلوں سے مراد وہ بادل ہوں جو دشمنوں کی تباہ کن پالیسیوں کی شکل میں مسلمانوں کے سروں پر چھائے ہوئے ہیں اور عید کی قربانی سے مراد اسمعیل علیہ السلام کے سچے یا جھوٹے نام لیواؤں کی ر الفضل ۲۳ مئی ۱۹۳۷) قربانی ہو (واللہ اعلم بالصواب) لى - الصفت ۳۷: ۱۰۳ تا ۱۰۸ ۹۲ - پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۳