خطبات محمود (جلد 2) — Page 292
۲۹۲ نے جو احکام دیئے تھے ان کی بھی پوری پابندی نہیں کی جاتی۔مثلاً اس عید کے موقع پر رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا الله والله اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد کا کثرت سے ذکر کیا جائے۔آپ اس موقع پر صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ ٹیلے پر چڑھو تو یہ ذکر کرو اور ٹیلنے سے اترو تو بھی لا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑھا کر وہا جب ایک دوسرے کے سامنے آؤ تو بھی ذکر بلند آواز سے پڑھا کر وایا میں نے پچھلے چند سالوں سے متواتر اپنی جماعت کو اس طرف توجہ دلائی ہے مگر ابھی تک اس نے پوری توجہ نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ ایسے اذکار کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں لیکن اگر نہ میں سے اندر کوئی نشان ہے تو وہ ذکر الہی کرنے سے جائے گی نہیں بلکہ اور بھی زیادہ ہوگی۔جو چیز محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے خلاف ہے جو اللہ وہ ہرگز شان نہیں کہلا سکتی۔وہ نشان نہیں بلکہ شیطان ہے۔آج عید گاہ کی طرف آتے ہوئے رستے میں میں نے دیکھا کہ لوگ ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے آرہے تھے اور ان کی زبان پر لا الہ اللہ اللہ واللہ اکبر کا ذکر نہ تھا۔حالانکہ میں اور میرے ساتھی سب بیڈ کر انہی کرتے آرہے تھے۔اور ہم جس کے پاس سے بھی گزرے ہم نے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑھا۔مگر ہمارے منہ سے شنکر بھی کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔حالانکہ میں پہلے بھی کئی دفعہ اس طرف توجہ دلا چکا ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی طریق تھا خصوصا اس عید کے موقعہ پر یہ ذکر کثرت سے کرتے تھے۔صحابہ ایک دوسرے کو رستہ میں جاتے ہوئے پکڑ لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ذکر الہی کو اللہ ہیں جو جھوٹا وقار قائم رکھنے کے لئے ذکر الہی کو ترک کرتا ہے اس میں اس کی شان نہیں بلکہ وہ ایک شیطانی فعل کا ارتکاب کرتا ہے بعض لوگ تو اپنے وقار کا اس ت در خیال رکھتے ہیں کہ کسی سے بات ہی نہیں کرتے حالانکہ وقار کی بھی حد ہونی چاہیئے۔وقار پر اتنا بھی زور نہ دیا جائے کہ بنی نوع انسان کی محبت کے اندر خیلیج حائل ہو جائے۔پس تمھیں چاہیئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک ایک بات پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ممکن ہے وہ بات جس کو تم نے چھوٹا سمجھ رکھا ہو۔و حقیقت نہیں بڑی ہو اور وہی تمہاری اصلاح کا موجب ہو جائے۔اس لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی عمل کئے بغیر نہ چھوڑ و تا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نور تمہارے اندر پیدا ہو اور تم رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حقیقی معنوں میں تصویر بن جاؤ تاکہ لوگ تمھیں دیکھ کر پکار اٹھیں کہ شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے متبعین میں سے ہے۔"