خطبات محمود (جلد 2) — Page 22
۲۲ シ اپنے مطلب کے دوست اور رشتہ دار تھے لیکن ان کی بجائے جو خدا تعالے نے دیئے وہ کس بات کی تمنا رکھتے تھے کہ ہم سے حضرت صاح صاحب کوئی خدمت میں ہے تا کہ اس طرح ہمارا بیڑا پار ہو جائے ۔ تو ہر رنگ میں خدا تعالے نے آپ کو آپ کی قربانی کا بہت بڑھ چڑھ کر بدلہ دیا۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ساری دنیا آپ کے قدموں میں آگرے کیونکہ ابھی ابتدائی زمانہ ہے۔ مگر کہتے ہیں : ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ تمام مذاہب والے اس بات کو قبول کر رہے ہیں کہ اگر دنیا میں کوئی ایسا پودا ہے جس سے ڈرنا چاہیئے تو وہ وہی ہے جو مرزا صاحب بنے لگایا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمارے درخت نہیں بڑھ سکتے ۔ جہاں ایک قوی درخت ہو، وہاں اور کوئی درخت پھل پھول نہیں سکتا اور نہ ہی بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح تمام مذاہب والے کہتے ہیں کہ گو یہ پودا ہی ہے مگر اس کے مقابلہ میں ہمارے درخت بھی نہیں بڑھ سکتے بلکہ سوکھ رہے ہیں۔ حضرت صاحب ت صاحب کہتے کہ عیسائی مشنری اور ان کی عورتیں یہاں قادیان میں فه آیا کرتی تھیں کے لیکن اب دیکھ لو کہ قادیان لہ قادیان کے نام تک سے وہ کا پیتے ہیں۔ اور کئی کئی میل - دور سے گزر جاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسا نہ بر دست پودا ہے کہ جہاں یہ ہو وہاں ہماری اُگانے سے کچھ نہیں اُگ سکتا۔ ہمارے پودے اسی وقت تک اُگ سکتے ہیں جبکہ اس سے دور ہی ہوں ، اس لئے اس سے دور دور ہی رہتے ہیں۔ لیکن خدا کے فضل سے یہ پودا دیا ب بھی پہنچ جاتا ہے ، اس لئے پھر وہاں سے انہیں بھاگنا پڑتا ہے ۔ پاک درخت کے متعلق خد القات فرماتا ہے ۔ اصلهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ اس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور اس کا پھیلاؤ آسمان تک ہوتا ہے۔ یہی بات ہم نے اس شجر کے متعلق دیکھ لی ہے اور ہم نے تجربہ کر لیا ہے کہ اس کی موجودگی میں دوسروں کی کھیتیاں نہیں اگتیں اور اگر اگتی ہیں تو خشک ہو جاتی ہیں۔ گو اس وقت ہماری جماعت کمزور ہے مگر آثار بتا رہے ہیں کہ اس کے مقابلہ میں باقی تمام پودے مرجھا رہے ہیں ۔ اور ایک دن آئے گا جبکہ بالکل خشک ہو جائیں گے اور سایہ کن درخت صرف یہی ہو گا ۔ ہمارے سامنے یہ نظیر موجود ہے۔ غیر اگر بے توجہی کریں تو کریں مگر وہ جو اس خدا کے مامور اور بنی پر ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی معیت کی اور سب کچھ دیکھا ۔ ان میں سے اگر کوئی اس طرح نا امیدی ظاہر کرے کہ اگر میں خدا کے لئے خرچ کروں گا تو ضائع ہو جائے گا ۔ وہ بہت ہی قابل افسوس ہے۔ اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ خدا تعالے کے لئے دی ہوئی چیز نہ کبھی پہلے صنائع ہوئی ہے اور نہ اب ہو سکتی ہے تم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ دیکھ لیا ہے۔ پھر اپنے اپنے گاؤں میں دیکھ لو کہ جنہوں نے اس سلسلہ کے لئے سچی قربانیاں کی ہیں انہیں کیا کچھ