خطبات محمود (جلد 2) — Page 291
۲۹۱ ضروری ہے وہ منہ کی صفائی ہے۔ دوسری یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز نہ کھائی جاوے جس سے منہ میں بو پیدا ہو۔ تیسری یہ ہے کہ نہا دھو کر بدن اور کپڑوں کی اچھی طرح صفائی کر کے آؤ ۔ اور جو تھی یہ ہے کہ چونکہ بعض کو بغل گند یا اور کسی قسم کی تکلیف ہو گئی ہے جو صفائی کرنے سے بھی نہیں کیا سکتی اس لئے سب کے لئے حکم ہے کہ خطر لگا کر آؤ۔ خصوصا عیدین اور جمعہ کے موقعہ پر سب لوگوں کو عطر لگانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی شخص کی وجہ سے دوسرے مومن کو تکلیف نہ ہو یعنی ایسے مومن کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام پر پوری طرح عمل کر کے فرشتہ بن کر مجلس میں آتا ہے۔ بظاہر یہ چھوٹے چھوٹے احکام ہیں مگر اپنے اندر بڑی بڑی حکمتیں رکھتے ہیں چونکہ نمازوں میں توجہ کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اگر ایسے لوگ بھی نمازوں میں شامل ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ان حکمت بھری باتوں پر عمل نہیں کرتے تو نماز سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ اب تو میں تمام نمازوں میں امام ہوتا ہوں مگر جب میں اپنی خلافت سے پہلے مقتدی ہوتا تھا تو بعض دفعہ میری نماز خراب ہو جایا کرتی تھی اور لوگوں کے مونہوں کی بو کی وجہ سے نمازہ کی نظر توجہ رکھنی مشکل ہو جاتی تھی۔ پس نماز کو صحیح طریق سے ادا کرنے کے لئے توجہ نہایت ضروری ہے اور توجہ کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی حرکت نہ ہو جس سے نمازہ کی طرف سے توجہ کے ہوٹ جانے کا احتمال ہو ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مساجد میں شور نہ کیا کہ یہ اس لئے نمازوں میں عورتوں کو سب سے پیچھے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ ان کے ساتھ بچے بھی آجاتے ہیں اور وہ شور مچاتے ہیں۔ عورتوں کو پیچھے رکھنے سے علاوہ پردہ کا کے یہ کہ تو کی نماز ہوسوں کیم کا انتظام کرنے کے یہ بھی عرض ہے کہ اگر بچے شور مچائیں تو نمازیوں کی نماز خراب نہ ہو۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے کوئی بچہ رویا تو آپ نے نماز جلد پڑھا کر ختم کر دی۔ پس نمازوں میں توجہ کے لئے ضروری ہے کہ ان احکام پر پوری طرح عمل کیا جائے خصوصا عیدین اور جمعہ کی نمازوں کے مواقع پر ان باتوں پر پوری طرح عمل کیا جائے تاکہ عبادت با برکت ہو اور توجہ کا موجب ہو اور نمازیوں کی نمازوں میں حرج واقعہ نہ ہو۔ آج اسی طرح مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ذکر الٹی کی عادت ڈالے مگر آجکل لوگ اس و پر بہت کم عمل کرتے ہیں اور عید کے مواقع پر دنیوی اور غیر ضروری رسم ورواج کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ ایسے مواقع پر طرح طرح کی عیا سٹیوں ناچ گانے اور تماشے کی طرف بہت زیادہ رغبت رکھتے ہیں اور یہ سب نقائص اجتماعی عیدوں کے مواقع پر پیدا ہوتے ہیں اسی لیئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اجتماعی عیدوں کے مواقع پر خاص طور پر حکم دیا کہ ذکر الہی کثرت سے کیا کریں۔ مگر کثرت سے اور زائد ذکر الہی تو الگ رہا سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم