خطبات محمود (جلد 2) — Page 290
۲۹۰ نہ ہو مگر عام طور پر لوگ منہ کی صفائی نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ عید کو خراب کر دیتے ہیں ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو حکمتیں اس کے اندر رکھی ہیں وہ ضائع ہو جاتی ہیں۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی ایسی چیز کھا کر مسجد میں نہ جاؤ جس سے تمہارے مونہوں سے بو آئے اور نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہو ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ کیا پیاز کھا کہ انسان ہر گز مسجد میں نہ جائے ملتے اس سے فرشتوں کو اذ کو اذیت پہنچتی ہے۔ شم مگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ فرشتے نظر نہیں آتے اس لئے ان کو بو بھی نہیں آتی اور اذیت بھی نہیں پہنچ سکتی ۔ پھر بعض لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ صرف پیاز ہی کی شرط ہے کہ نہ کھایا جا حالانکہ پیاز سے بھی زیادہ مولی کا ڈکار متعفن ہوتا ہے۔ اور وہ اتنا سخت متعفن ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص آٹھ یا دس گز کے فاصلہ پر بھی ڈکار لے تو اس کی بو سے سر چکرا جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے : مجھے فرمایا ہے اس کا منشاء یہ ہے کہ ہر چیز جو اپنے اندر کو یہ رکھتی ہے اس کو کھا کر مجالس یا مساجد میں نہیں جانا چاہیئے ۔ آپ نے پیاز کا نام صرف مثال کے طور پر لیا ہے ورنہ اس حکم میں ہر وہ چیز شامل ہے جس سے بو پیدا ہوتی ہے۔ اور فرشتے کے متعلق یہ خیال کہ وہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں آیا کرتا تھا اور انہیں آتا، نہ صرف قلب تدبیر کا نتیجہ ہے اور ایسا خیال بالکل باطل ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جس فرشتہ کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ، اس سے مراد مومن فرشتہ ہے۔ حضرت یوسف عليه السلام کو عورتوں نے یہی کہا کو عورتوں نے یہی کہا تھا کہ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكَ كريم الله شخص تو بشر نہیں ہے، فرشتہ ہے ۔ مگر تعجب ہے کہ مصر کے کفار تو اس بات کو سمجھتے تھے کہ مومن کو ہی فرشتہ کہتے ہیں مگر جو مومن ہیں وہ نہیں سمجھ سکتے کہ فرشتہ کس کو کہتے ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پیاز کھا کر مسجد میں نہ آؤ کیونکہ اس سے فرشتے کو اذیت ہوتی ہے۔ تو وہ فرشتے تم ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مومن جو میرے احکام پر پوری طرح عمل کر کے مجالس میں آتا ہے ، اس کو اس شخص کے منہ کی بو سے اذیت اور تکلیف پہنچتی ہے جو ان احکام پر عمل نہیں کرتا پس فرشتہ سے مراد وہ مومن ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہے جو رسول و احکام پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔ على کے پھر بعض اوقات ان ساری باتوں پر عمل کرنے کے باوجود بھی کچھ کوتاہی ہو جاتی ہے مثلاً بعض لوگوں کو بغل گندہ ہوتی ہے یا بعض کے پیروں کی انگلیوں میں بو ہوتی ہے۔ اس کے لئے سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عطر لگا کر آیا کہ یہ پس پہلی بات جو مجالس میں آنے کے لئے نہایت