خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 289

۲۸۹ کے دن غسل کیا کرو ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عید کے دن یا تو نئے کپڑے پہنے جائیں ورنہ احتیاط سے ره دھو کر پرانے ہی پہن لئے جائیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ جائیں نے تیسری بات یہ ہے کہ ہر عید کے موقعہ پر خطہ ضرور لگایا جائے ۔ چوتھی بات جو صرف اس عید الاضحیہ کے لئے ہے یہ ہے کہ جب دو مسلمان گھر پہ یا رستہ میں ملیں اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر ولله الحمد پڑھا کریں ۔ مگر کتنے مسلمان ہیں جو باقاعدہ ان باتوں پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کے لوگ کپڑے بدلنے میں غلو کر لیتے ہیں اور خاص کر شہروں ہے کے منشاء سے 1 میں تو بہت زیادہ ہوتا ہے اور وہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی آگے نکل جاتے ہیں ۔ گاؤں والے تو بیچارے سیدھے سادے ہوتے ہیں اور پرانے کپڑے ہی دھوکہ پہن لیتے ہیں مگر شہری لوگ بہت زیادہ غلو اور اسراف سے کام لیتے ہیں جو نا جائز اس کے علاوہ مسلمانوں کو عام طور پر مجالس میں آتے وقت صفائی کا خیال نہیں ہونا ہوتا ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی احکام نے کئی احکام مجالس میں صفائی کر کے آنے کے بارہ میں ا میں ارشاد فرمائے ہیں۔ جن میں سے پہلا حکم بلا ناغہ مسواک کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اپنے منہ کو ہمیشہ صاف رکھا کر واس کے متعلق میں نہیں جانتا کہ اسلامی ممالک میں اس پر کسی حد تک عمل ہو رہا ہے۔ مگر ہندوستان میں سو میں سے 99 فیصدی مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی نقلا ورزی کرتے ہیں بلکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ ہزار میں سے ایک آدمی بھی اس حکم پر پوری پوری طرح عمل کرنے والا نہ ہو گا ۔ اگر کسی کو اس کے متعلق شبہ ہور یہاں تو معانقہ کا رواج نہیں، تو کسی سے معانقہ کر کے دیکھ لو اور اپنے ساتھی کے مُنہ کو سونگھو نہیں پتہ لگ جائے گا کہ یہ آدمی کا منہ نہیں سنڈ اس کے و شخص منہ کی صفائی نہیں رکھتا اگر وہ قریب آجائے تو ہمارا ناک نہیں بتائیں گا کہ اس نے کبھی منہ کی صفائی نہیں کی۔ مجھے اللہ تعالے نے خاص طور پر قوت شامہ عطا کی ہے اور مجھے بعض اوقات ایسی باتوں سے سخت تکلیف ہوتی ہے مثال کے طور پر سبعیت کے وقت بہیت کو نیوالا مجھ سے فٹ ڈیڑھ فٹ پر بیٹھا ہوتا ہے مگر الا ماشاء اللہ سب کے منہ سے بو آتی ہے اور بعض اوقات معیت سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ بسا اوقات وہ بو اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منہ کی صفائی کا اتنا خیال تھا کہ کئی کئی دفعہ دن میں مسواک کرتے تھے۔ میں منہ کی صفائی کے لئے مسواک نہایت ضروری چیز ہے یہ بحث فضول ہے کہ منجن اچھے ہیں یا مسواک اچھی ہے۔ آجکل کے ڈاکٹروں کا دعوئی ہے کہ منجن مسواک سے اچھے ہیں مگر اصل مدعا تو یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں میں سے کسی ایک کا تو باقاعدہ استعمال کیا جائے۔ اور منہ کی بو کو دور کیا جائے۔ خواہ وہ مسواک سے دور ہو یا مسلمان سے بہر حال منہ کو صاف رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ دوسروں کی طبائع پر برا اثر ڈالنے کا موجب