خطبات محمود (جلد 2) — Page 287
نوجوانوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے لئے وقف کی ہوتی ہیں۔ اور ان کو ایک لمبے عرصہ کے لئے غیر ممالک میں بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ اپنے وطن اور عزیزوں کی محبت کو فراموشش کرتے ہوئے اور اپنے پیش نظر صرف ایک ہی مقصد کو رکھتے ہوئے کہ انہوں نے کفر کے قلعوں پر اسلامی جھنڈے کو گاڑنا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو دوبارہ دنیا میں اسی شان - وشولت سے قائم کرنا ہے جس طرح آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل قائم ہوا تھا نهایت قلیل گزارے پاتے ہوئے ان ان علاقوں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں انہیں نہایت غربت کے ساتھ اپنی زندگی کے دن دن بسر کرنے پڑتے ہیں۔ نہ وہاں ان ان کا کا کوئی دوست ہوتا ہے ہے نہ نہ آشنا وہ ایسے ایسے غیر مانوس علاقوں میں پہنچتے ہیں جہاں سوائے خدا کے کوئی بھی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا ۔ وہ اگر بمیار ہو جائیں تو ان کا تیمار دار کوئی نہیں ہوتا اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو کوئی تسلی دینے والا نہیں ہوتا ۔ مگر پھر بھی وہ اپنے علوم پر چٹان کی سی مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔ بعض اوقات ان کو درختوں کے پتے کھا کر یا پیٹ پر پتھر باندھ کر گزارا کرنا پڑتا ہے مگر وہ اپنے پائے استقلال میں تزلزل نہیں آنے دیتے ۔ یہ سب باتیں جانی قربانی میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے گھروں میں جو حالت ہوتی ہے وہ بھی جانی قربانی کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ ان مبلغین کی بیویاں آٹھ آٹھ دس دس سال تک ان کی واپسی کے انتظام میں گزار دیتی ہیں ان کے بیچے نہایت غربت اور جدائی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا دہرا بوجہ ان پر ہوتا ہے۔ یہ بھی جانی قربانی ہے جس آج دنیا میں صرف ہماری جماعت ہی ہے جو مالی قربانی بھی کر رہی ہے اور جانی قربانی بھی کر رہی ہے۔ احمدی کوئی آسمان سے تو نہیں آئے یہ بھی انہی مسلمانوں میں سے ہیں۔ اور یہ صرف تین چار لاکھ کی قلیل تعداد میں ہوتے ہوئے بھی جو کچھ کر رہے ہیں وہ ساری دنیا کے مسلمان بھی نہیں کر سکتے ۔ اس وقت ہندستان میں دس کروڑ مسلمان ہیں۔ اس کے یہ معنے ہوئے کہ وہ احمدیوں سے دو سو گئے زیادہ ہیں گویا ایک احمدی کے مقابلہ میں دو سو غیر احمدی ہیں۔ دیکھو یہ کتنا بھاری فرق ہے۔ ہماری جماعت خدا تعالی کے فضل سے فضل سے پچیس لاکھ روپیہ سالانہ چندوں میں دیتی ہے ۔ جس میں سے کچھ تحریک جدید اور کچھ چندہ عام اور کچھ دوسری مدات میں آتا ہے اس میں سے اگر چار یا پانچ لاکھ روپیہ باہر کی جماعتوں کا نکال دیں تو نہیں لاکھ روپیہ سالانہ صرف ہندوستان کی جماعتوں کا بنتا ہے اگر ہماری جماعت کی طرح ہندوستان کے دوسرے مسلمان بھی چندہ اکٹھا کریں تو چالیس کروڑ روپیہ سالانہ چندہ اکٹھا ہو سکتا ہے اور چالیس کروڑ روپیہ سالانہ وہ آمدن ہے جو چالیس پچاپی سال پہلے حکومت ہند کی ہوا کرتی تھی ۔ چالیس کروڑ روپیہ ہندوستان کے رہے امیر صوبہ