خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 273

نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينَا آج یہ عید بھی اسی رنگ کی عید ہے یہ وہ جلسہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و الاهم نے جماعت کو اکٹھا کرنے کے لئے قائم کیا اور یہ جلسہ ان ایام میں آیا ہے جبکہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وانحر کا نظارہ نظر آرہا ہے ۔ چنانچہ کل حج تھا اور آج ہم سب عید منا رہے ہیں پس آج خدا کا یہ کلام پھر اوپرا ہو رہا ہے کہ ہے اور إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام جو اکیلے تھے انہیں خدا تعالے نے اتنی کثیر جماعت دی ہے کہ آج آلا نشر الصوت کے بغیر ان تک آواز بھی نہیں پہنچ سکتی۔ پس مل کے حکم کی تعمیل تو ہم کو ہی چکے ہیں اب ہم قربانیاں کریں گے اس خوشی میں کہ اللہ تعالے نے ہمیں کوثر عطا کیا یعنی اللہ تعالے نے تمہیں ظاہری کثرت بھی دی جس طرح اس نے ہمیں روحانی انعامات کی کثرت دی اور ہم خدا تعالے کا شکر ادا کریں گے۔ کہ اس نے ایک بار پھر دنیا پر ثابت کر دیا کہ محمد صلی الہ علیہ و آلہ وسلم ہی صاحب اولاد ہیں اور آپ کے دشمن ہی ابتر ہیں۔ دیکھو آج ہم یہاں کتنی کثرت سے موجود نہیں ۔ اترسول میں نے ۲۳ ہزارہ آدمیوں کا اندازہ بتایا تھا مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ اندازہ بالکل غلط ہے کیونکہ اس وقت عورتوں کی مردم شماری اندازہ سے بہت زیادہ نکلی گویا قریب نہیں چالیس ہزار آدمی اس وقت جلسہ میں شامل تھے ۔ اور آج بھی قریبا اتنے ہی ہیں اگر کچھ فرق ہے تو بہت معمولی ہے پس اس وقت تیس چالیس ہزار کے قریب مرد و عورت بیٹتے ہیں۔ اتنے کثیر مجمع کے مقابلہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن کتنے تھے۔ محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمن صرف بیسیوں تھے۔ اور آپ اکیلے تھے مگر آج خدا تعالیٰ کے فضل : سے ہم میں سے ہر ایک فخر کے طور پر نہیں ، تکبر کے طور پر نہیں، ریا کے طور پر نہیں بلکہ امر واقعہ کے اظہار کے طور پر یہ کہنے کے لئے تیار ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بلیٹا ہوں کیا ہے کوئی اس تمھیں چالیس ہزار نہیں سے جو یہ کہہ سکے کہ میں ابو جہل کا بیٹا ہوں یا عتبہ یا شیبہ کا بیٹا ہوں یقینا ایک بھی ایسا شخص نہیں ہے۔ پھر عید کا یہ اجتماع صرف اسی مقام پر نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونہ میں اس وقت لوگ جمع ہیں۔ ہیں۔ ہر ملک میں لوگ جمع ہیں اور ہر علاقہ میں لوگ جمع ہیں۔ ان لاکھوں لاکھ لوگوں میں سے ہر شخص اس تمنا کے ساتھ اس اجتماع میں شریک ہوتا ہے کہ کاش میرانیین سچا ہو کہ بیکن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بیٹا ہوں ۔ مگر ابو جہل کی اولاد میں سے آج اگر کوئی ہے بھی تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ میں ابو جہل کی اولاد میں سے ہوں ۔ بلکہ وہ بھی یہی کہے گا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد میں سے ہوں ۔