خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 270

۲۷۰ ونده و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حج کے لئے آئے اور خدا کے حکم کو پورا کرنے کے لئے کہ تم نمازیں پڑھو اور قربانیاں کرو۔ انہوں نے نمازیں پڑھیں اور خدا تعالے کے رستہ میں قربانیاں کیں تو وہ کو شیر جس کا دیا گیا تھا وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا۔ چنانچہ ابو جہل کا بیٹا اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت میں شامل ہو گیا اور ولید کا بیٹا اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت میں شامل ہو گیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔ مگر خدا نے کہا کہ میں ان اعتراض کرنے والوں کے بیچتے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دے دوں گا۔ چنانچہ جب اس میچ کے موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی ہوگی اور پھر ائی ہوگی اور پھر قربانیاں کی ہوں گی ۔ تو گو آپ نے اپنے اعلیٰ درجہ کے خلاق کے ماتحت دشمنوں کو شرمندہ کرنے کے لئے یہ نہیں پوچھا کہ بتاؤ میرا دشمن ابتر ہے یا ئیں ابتر ہوں۔ لیکن جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے پیچھے عکرمہ اور خالد وغیرہ نوجوان پھر رہے ہوں گے اس وقت گورسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان کچھ کہہ نہیں رہی تھی ۔ مگر مکہ کی گلیوں کی وہ زمین جس پر ان کے قدم پڑ رہے تھے وہ ان دشمنوں کو مخاطب کر کے کہہ رہی تھی کہ اور ابو للہ رہی تھی کہ اور ابو جبل او علیہ ! او شیبہ کہاں ہے تمہاری وہ اولاد جس پر فخر کرتے ہوئے تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمن بنے پھرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ابتر ہے۔ وہ ابتر ہے یا آج تم ابتر ثابت ہو رہے ہو۔ 1 مچھر کوثر کے ایک اور معنے بھی ہیں جس کے کے لحاظ سے اس میں آئندہ ہیں آئندہ کی ایک کے شگوئی کا ذکر کیا گیا تھا اور وہ معنی یہ ہیں کہ ایک بڑا آدمی جو بڑا صدقہ و خیرات کرنے والا ہوں اور آنے والے مسیح کے متعلق بھی لکھا ہے کہ وہ اتنا صدقہ کرے گا، اتنا صدقہ کرے گا کہ کوئی اسے قبول نه نہیں کرے گا۔ یعنی وہ اس قدر روحانی معارف لٹائے گا کہ حد ہو جائے گی۔ مگر لوگ اپنی نامی کی وجہ سے ان کو رد کر دیں گے۔ وہ سونے ا اور چاندی کے خزانوں پر تو مر رہے ہوں گے مگر خدا کے کلام کی مت در نہیں کریں گے ۔ تو اس سورۃ میں یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے یہ لوگ ابتر کہتے ہیں ۔ اور ابترا اسے کہتے ہیں جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو اور روحانی اولاد میں سے زرینہ بیٹیا اللہ تعالے کا نبی ہوتا ہے کیونکہ نبوت ہی ایک ایسا عمدہ ہے جو عورتوں کو نہیں مل سکتا ہے ایسا جو باقی سارے عہدے عورتوں کو مل سکتے ہیں۔ عورت صدیقہ ہو سکتی ہے چنانچہ سب لوگ کہتے ہیں مریم صدیقہ ، عائشہ صدیقہ - عورت شہداء میں شامل ہو سکتی ہے چنانچہ کئی مسلمان عورتیں شہید ہوتی ہیں۔ اور صالح تو ہوتی ہی ہیں اگر کوئی عہدہ عورت کو نہیں مل سکتا تو وہ صرف نبوت ہی ہے