خطبات محمود (جلد 2) — Page 268
гул سچ کہا تو میری بات سچ ہو گی اور اگر یہ کہے گا کہ میری بات غلط ہے تو وہ غلط ہو گی ۔ اس پر رؤساء نے عثمان بن مطعون کو ڈانٹا اور کہا خبردار تم مت بولو۔ تمہارا کوئی حق نہیں کہ اس مجلس میں کسی شعر پر وار دو۔ اور ان کی بہنیں کر کے کہا کہ آپ آگے چلئے چنانچہ انہوں نے اگلا مصرفہ پڑھا کہ ہے وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةً زَائِل اور ہر نعمت آخر تباہ ہو جانے والی ہے۔ عثمان بن مظعون ابھی ڈانٹ کھا کر بیٹھے ہی تھے کہ جونی انہوں نے یہ مصرعہ پڑھا وہ فورا بول اٹھے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہوں گی۔ پھر کیا تھا بعید کو غصہ آگیا ۔ اور انہوں نے کہا۔ میں تو اب آگے نہیں پڑھتا۔ چنا نچہ بعض نوجوان رئیس کھڑے ہوئے اور انہوں نے عثمان کو مارنا شروع کر دیا ۔ اسی دوران میں ایک نے زور سے آپ کی آنکھ پر مکہ مارا جس سے آنکھ نکل گئی ۔ وہ رئیس جو ان کے باپ کا بھائی بنا ہوا تھا ۔ وہ اس حالت میں ان کی مدد بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اور ادھر ان کے باپ کی محبت بھی اس کے دل پر غالب تھی ۔ ایسی حالت میں اس نے وہی کچھ کیا جو غریب ماں اپنے اس بچہ سے کیا کرتی ہے جسے کسی امیر آدمی کے بچہ نے مارا ہو ۔ جب کسی غریب عورت کے بچہ کی کسی امیر عورت کے بچہ سے لڑائی ہو جاتی ہے۔ اور اس امیر کے نوکر اور رشتہ دار اور عزیز اپنے آقا کے بیٹے کی طرفداری کرتے ہوئے اس غریب عورت کے بچہ کو مارتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم زبر دست ہیں تو جانتے ہو وہ غریب عورت کیا کیا کرتی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آقاؤں کا مقابلہ کرے بلکہ وہ غصہ اپنے اس بچہ پر نکالا کرتی ہے ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں اور وہ اپنے بچہ کو مار رہی ہوتی ہے۔ اور یہ کہتی جاتی ہے کہ تجھے جو کہا ہے کہ ایسی جگہ نہ جایا کر اور اس طرح وہ اپنی کمزوری اور بے نبی کا گویا اظہار کرتی ہے۔ اس رئیس کی حالت بھی یہی تھی ایک طرف وہ اپنی قوم کے جتھہ اور اس کی مخالفت اور غصہ کو دیکھ رہا تھا ۔ اور دوسری طرف عثمان بن مطعون کی مظلومیت اور اس کے باپ کی محبت اس کے دل میں جوش مار رہی تھی ۔ آخر اس غریب ماں کی طرح اس نے بھی عثمان بن مظعون پر اپنا غصہ نکالا اور انہیں مخاطب ہو کر کیا۔ دیکھا میں نہیں کہتا تھا کہ میری پناہ میں آجاؤ ۔ آخر مجھے یہ دیکھنا پڑا کہ تیری آنکھ نکال دی گئی۔ مگر جانتے ہو عثمان بن مظعون نے اس کا کیا جواب دیا ۔ انہوں نے کہا۔ تم اپنی حفاظت اپنے گھر میں رکھو۔ تخم کو تو یہ برا لگ رہا ہے کہ میری ایک آنکھ نکل گئی اور میری تو دوسری آنکھ بھی اسی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لئے تیار ہے ہیں یہ ان لوگوں کی حالت تھی ظلم وستم کا وہ ایسا نشانہ بنے ہوئے تھے کہ دنیا کے پردہ پر کوئی ایسی ہے بس قوم نہیں گذری عیسی ہے بس قوم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اتباع کی مگر میں تھی