خطبات محمود (جلد 2) — Page 259
۲۵۹ بجرے کی قربانی کے ساتھ اپنے نفس کی قربانی بھی کرتا ہے ، وہ شرفاء کے نزدیک قابل عزت و احترام ہے لیکن جو صرف بکرے کی قربانی پر اکتفا کرتا ہے۔ وہ نقال اور بھانڈ ہے اس لئے کسی عربت کا مستحق نہیں جس طرح بھانڈ کی کوئی عزت نہیں ہوتی اس کی بھی نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح جو شخص قربانی کا گوشت کھانے کو تو تیار ہو جاتا ہے مگر اسلام کی ترقی کی خوشی میں شامل ہونے کو تیار نہیں وہ بھی بھانڈوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ۔ در اصل عمل ہی ہے جو انسان کو معز ز بناتا ہے محض نقالی کوئی چیز نہیں۔ پس دوست آج کے دن سے سبق حاصل کریں اور ہمیشہ اس قربانی کو مد نظر رکھیں جو ابراہیم علیہ السلام کے مد نظر تھی ، جو حضرت ہاجرہ کے مد نظر تھی ۔ کوئی کہ سکتا ہے کہ حضرت ابراہیمیم تو نبی تھے عام انسان انبیاء حبیبی قربانی کسی طرح کر سکتے ہیں۔ مگر ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ حضرت ہاجرہ تو نبی نہ تھیں مگر ان کی قربانی کتنی شاندار ہے کیا ہی دردناک نظارہ ہے، حضرت ابراہیم اپنی بیوی اور بچے کو ایک جنگل میں چھوڑ آتے ہیں جہاں پچاس پچاس میل یا سو سو میل تک کوئی آبادی نہیں ۔ پھر کوئی ساتھی بھی نہیں ، کوئی سامان نہیں ، صرف ایک مشکیزہ پانی کا اور ایک تھیلی کھجوروں کی جو زیادہ سے زیادہ دو تین روز کے لئے کفایت کر سکتی ہے ۔ ایسی سکیسی کی حالت میں چھوڑ کر حضرت ابراہیم واپس ہوتے ہیں تو حضرت ہاجرہ ان کا تعاقب کرتی ہیں انہوں نے سمجھ لیا کہ حضرت ابراہیم ان کو چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ اس سے وہ پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔ اور پوچھتی ہیں۔ کہ ابراہیمی ہم کر کہاں چھوڑے جاتے ہو یہاں نہ تو کوئی آبادی ہے۔ اور نہ تمہایہ، نہ کھانے پینے کی کوئی چیز ہے ۔ وہ بار بار یہ سوال کرتی ہیں مگر حضرت ابراہیم کوئی جواب نہیں دیتے چونکہ ان کو سخت صدمہ اور غم تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر میں نے بات کی تو میرے آنسو جاری ہو ہو جائینگے جائے اور اس سے ان کو اور صدمہ ہوگا ، اس لئے وہ جواب سے پہلو نہی کرتے رہے ۔ آخر حضرت ہاجرہ نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو اللہ تعا لئے نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ نے فرمایا : ہاں ۔ حضرت ہاجرہ کی تبانی دیکھو یا ان کو اس امر میں صریح تباھی نظر آتی تھی ، پھر ساتھ چھوٹا بچہ تھا، حفاظت کا کوئی سامان نہ تھا ، دور دور تک کوئی آبادی نہ تھی۔ ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجور کے سوا کھانے پینے کا بھی کوئی سامان پاس نہ تھا جو دو آدمیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دو تین روز تک کفایت کر سکتا ہے ۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ جن میں ایک قوی سے قوی انسان بھی ڈر جاتا ہے۔ لیکن جب حضرت ابراہیم نے جواب میں کہا کہ میں خدا تعالیٰ کے حکم سے تمھیں یہاں چھوڑے جاتا ہوں تو جانتے ہو کہ حضرت ہاجرہ نے کیا جواب دیا ۔ آپ نوڑا پیچھے لوٹیں اور کہا کہ اگر خدا کا حکم ہے تو بے شک جائیے ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہمارا