خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 258

۲۵۸ چھا پیش کرنی پڑی ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے انسان کی جسمانی قربانی تو سب ہو گئی مگر نفوس کی قربانی کی بنیاد ڈال دی گئی ۔ اور حق یہ ہے کہ اس کے بغیر خدا تعالیٰ کی رضاء کا حصول ناممکن ہے ۔ ظاہری قربانی جو جانوروں کی باقی ہے۔ اس کے متعلق بھی اللہ تعالی نے یہاں تک فرمادیا ہے کہ جو لوگ ظاہری رنگ میں جانور وغیرہ کی قربانی کرتے ہیں۔ ان کو اس امر پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ یہ خدا تعالے کو پہنچتی ہے۔ فرمایا۔ مَنْ يَنَالَ اللهُ لَحُومُهَا ولَادِ مَاءَهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ تمہارے ان ان قربانی قر کے جانوروں کا گوشت گوش یا خون اللہ تعالے کو نہیں پہنچتا بلکہ اللہ تعالے کو صرف وہ نیکی اور پاکیزگی پہنچتی ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ بہت سے لوگ بجہ سے اونٹ یا گائے کی قربانی کر کے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالے کو پالیا۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ خود ہی جانور ذبح کیا ۔ اور خود ہی کھا مالیا ۔ اس سے خدا تعالے کے اتعالے کو کیا۔ یہ تو تصویری : ریری زبان ہے جس کے معنی کچھ ا کچھ اور ہیں ۔ مصور ہمیشہ تصویریں بناتے ہیں کبھی وہ زنجیر بناتے ہیں جس سے مراد قومی اتحاد ہوتا ہے کبھی وہ طلوع آفتاب کا نظارہ دکھاتے ہیں مگر اس کا مطلب قومی ترقی ہوتا ہے ۔ اسی طرح یہ ظاہری قربانی بھی ایک تصویری زبان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جانور ذبح کرنے والا اپنے نفس کی قربانی کے لئے تیار ہے جو شخص قربانی کرتا ہے وہ گویا اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ نہیں خدا تعالے کی راہ میں سب کچھ قربان کر دونگا اور جو شخص قربانی کا گوشت کھاتا ہے۔ وہ گویا یہ اقرار کرتا ہے۔ کہ ہماری قوم کی قربانیاں میرے لئے اور ساری امت کے لئے سہولت پیدا کر دیں گی۔ جب عید کے روز کسی کے ہاں قربانی کا گوشت بطور تحفہ آتا ہے تو یہ بکرے یا دینے یا گائے کا گوشت نہیں ہوتا بلکہ دراصل اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ میرے بھائیوں کی قربانیاں جو وہ خدا تعالے کی راہ میں کر رہے ہیں قبول ہوں گی اور اسلام کی ترقی کا موجب ہوں گی ۔ یہ گوشت گویا تصویری زبان میں اسلام کی ترقی کا اقرا ہوتا ہے۔ پس جو بات ہم تصویری زبان میں بیان کرتے ہیں ، چاہیئے کہ عملاً بھی اسے پورا کریں۔ کیونکہ محض نقل میں کے ساتھ حقیقت نہ ہو عزت کا موجب نہیں ہو سکتی ۔ تھیٹر والوں کو شرفاء کیوں ناپسند کرتے ہیں۔ تھیٹر میں جو نقال بادشاہ بنتے ہیں ، شرفاء کے نزدیک ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی لیکن حقیقی بادشاہ کی عزت سب کرتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ جب بادشاہ بننا موجب عورت ہے تو کیوں اس ایکٹر کی عزت نہیں کی جاتی جو تھیٹر میں بادشاہ بنتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ٹھیٹر والا محض نقل کرتا ہے اور حقیقی بادشاہ جو کچھ کرتا ہے دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے کرتا ہے۔ تھیٹر میں بادشاہ بہنے والا اگر عملی زندگی میں بھی اس کے لئے جد وجہد کرنے تو اسے برا نہیں سمجھا جائے گا لیکن محض نقل کسی عزت کا مستحق نہیں بنا سکتی ۔ اسی طرح جو شخص 6 ش