خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 257

۲۹ و موده به جبوری استاد به نام عید گاه قادیان ی عید اس قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی خوشنودی کے حصول اور دنیا کی ہدایت کے لئے پیش کی تھی۔اللہ تعالے نے اپنے بندوں کو ہدایت پر جمع کرنے کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ دنیا میں سے ایک مقام کو برگزیدہ کرے اور لوگوں کے لئے مشابہ یعنی جمع ہونے کی جگہ نیا دے اور اسے پاک وصاف اور عبادت کے لئے تیار رکھنے کے لئے حضرت براہیم علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ اپنے نبچہ کو مقرر کر دیں کہ وہ اور اس کی آئندہ نسلیں اس مقام کو باہر سے آنیوالوں نیز مکہ کے رہنے والوں کے لئے بھی عبارت کے قابل رکھیں ہے مگریہ حکم اس رنگ میں دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رویا میں دیکھا کہ وہ اپنے بچہ کو ذبح کر رہے ہیں۔اور آپ نے اس زمانہ کے رواج کے مطابق کہ شام دنیا میں اس قسم کی قربانی رائج تھی یہی تمھا کہ گویا انہیں اپنے بچہ کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اور وہ اسے ظاہری شکل میں پورا کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں اللہ تعالے نے یہ حکم اس رنگ میں اس لئے دیا کہ نا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اس رواج کا قلع قمع کیا جائے۔چنانچہ حضرت ابراہیم اپنے اکلوتے بیٹے کو لیکر جنگل میں گئے اور اسے ذبیچ کرنے کے لئے بہین پر گرا دیا۔مگر عین اس وقت یہ الہام ہوا۔قد صد نت السرور بات کہ تو نے ظاہری طور پر بھی یہ بات پوری کر دی اور باطنی طور پر بھی تو نے اس حقیقت کو پورا کر دیا۔جو شخص چھری سے اپنے بچے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو جائے وہ اسے جنگل میں چھوڑ آنے سے کبھی انکار نہیں کر سکتا، چنانچہ آپ نے اس رویا کے مطابق اپنے بیچے اور بیوی کو خانہ کعبہ کے مقام پر چھوڑ دیا تا وہ دین کی خدمت کے لئے ایک مرکز تیار کریں لیے اور وہی مرکزہ اس وقت حج کا مقام ہے جہاں تمام دنیا سے حاجی اکٹھے ہو کر پہنچتے ہیں ہے یہ در اصل اسی قربانی کی یاد ہے کہ حضرت ابراہیم اپنے خدا کے حکم کے مطابق اپنے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہو گئے تھے۔حج کے موقعہ پر سب مسلمان قربانی کر کے اس کی یاد کو تازہ کرتے ہیں اور اسی کی نقل میں ہر جگہ مسلمان قربانی کرتے ہیں ہے اور اس طرح گویا یہ تباتے ہیں کہ وہ اللہ تعالے کی را ہمیں اپنی اور اپنی اولادوں کو قربان کرنے کو بالکل تیار ہیں۔عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لئے اپنی اور اپنی اولادوں کی قربانی ضروری ہے۔جب بھی انبیاء دنیا میں آئے ہیں ان کو معنوی طور پر یہ قربانی