خطبات محمود (جلد 2) — Page 255
۲۵۵ کہ وہ عید منائے مگر جس نے حضرت ابراہیم کے جہاد میں شمولیت نہیں کی ، جس نے حضرت ابراہیم کی طرح اپنی اولاد کو خدا تعالے کے دین کی خدمت کے لئے وقت نہیں کیا اور اس خوشی میں شریک ہونے کے لئے آگیا ہے وہ منافق ہے۔ اور جس وقت وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خوشی میں شریک ہوتا ہے آسمان کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اور کہتے ہیں اسے منافقوں دور ہو جاؤ ہماری نظارت سے۔ تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم اس خوشی میں شریک ہو ۔ تم نے وہ جہاد تو نہ کیا جو حضرت ابراہیم نے کیا تھا۔ مگر تم بوٹیاں کھانے کے لئے آگئے۔ پس تمہاری عید کوئی عید نہیں ۔ عید اسی کی ہے جو حضرت ابراہیم کے نمونہ کو اپنے سامنے رکھتا اور اپنی اولاد کو خدا تعالے کے دین کے لئے قربان کرتا ہے تو اسے دوستو! اس سبق کو یاد کہ جو اس عید سے حاصل ہوتا ہے اور اپنے اندر سے نفاق کو دو کرو۔ اور حضرت ابراہیم کی طرح اپنے بیٹوں کی قربانی کرو تاکہ تمہیں بھی حقیقی عید کا دن دیکھنا نصیب ہو ۔ ورنہ وہ شخص جو خوشی میں تو شامل ہو جاتا مگر تکلیف میں شامل نہیں ہوتا وہ منافق ہوتا ہے ۔ خدا اس نفاق سے ہر شخص کو اپنی پناہ میں رکھے " الفضل ومنى شد ) ه - صحیح بخاری کتاب المناسك باب الزيارة يوم النحر والخطيبة ايام منى - البقره ۲: ۱۲۹ تفسیر کبیر امام رازی به مطبوع مصر - البقره ۳ : ۱۳۰ - الاهران ۱۷ ۱۷۰ - سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب صنفته امتہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نه - البقره ۲ : ۱۲۶ شه - رای الملل و النحل لامام ابی الفتح محمد بن عبد الکریم الشده ستانی برحاشيه كتاب الفصل في الملل والاهواء والنحل امام ابن حزم جزء ثالث ۲ تا ۲۳ کا مطالعہ بڑا دلچسپ ہے۔ امام شہرستانی نے عرب میں بت پرستی کی ابتداء - تیوں کے نام اور ان کی وجہ تسمیہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ( حجم البلدان یاقوت حموی جلوه ۱۲ - زیر لفظ لکھ لکھا ہے :۔ عرب میں بت پرستی کی عام اشاعت کی یہ یہ ہوئی کہ قبائل اب جو تمام اطراف سے حج کو آتے تھے واپس جاتے ہوے حرم کے پتھروں کو اٹھا کر ساتھ لے جاتے تھے اور ان کو اصنام کعبہ کی صورت پر تراش کر ان کی عبادت کرتے تھے ، - تاریخ طبری جلد ۲ ص ۳۳ مطبوعہ دارالمعارف مصر 2 - تاریخ الخمیس جلد، ۳۳۰ شه - عمرو بن ہشام کنیت ابوالکم ، جنگ بدر میں دولڑکوں کے ہاتھوں قتل ہوا مسلمانوں نے اسے ابو جبل کنا شروع کردیا تھا۔ شه طلحہ بن عبید اللہ کنیت ابو محمد القرشی التیمی - عشرہ مبشرہ میں سے ایک تھے سلسلہ میں جنگ محل میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے ۔ رقانی کے تاریخ کامل ابن اثیر ہے )