خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 254

۲۵۴ کو چہ منے کی جرات نہ کی ۔ ان کو تو خدا نے محفوظ رکھا۔ اور باوجود شعلوں کو بوسہ دینے کے نہ ان کے سر کے بال جملے اور نہ داڑھی کا کوئی بال جلا ۔ لیکن اگر دوسرے بھی چومتے ، تو انہیں خطرہ تھا کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال جل جائیں گے اور وہ کنڈمنڈ ہو کر گھر پہنچیں گے ۔ غرض جب کوئی بھی آگے نہ بڑھا تو وہ مر یدی نے شعلوں کو چوما تھا کہنے لگا۔ میں نے تمہارے اعتراض کو سُن لیا تھا مگر بات یہ ہے کہ تو حقیقت تک نہیں پہنچے تھے تم نے سمجھا کہ پیر صاحب نے اس لڑکے کو چوما ہے حالانکہ پیر صاحب نے اس لڑکے کو نہیں چوما۔ اس کے اندر انہیں کوئی روحانی قابلیت نظر آئی ہوگی ۔ جس نے کسی آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونا ہوگا اور اسی وجہ سے انہوں نے اسے چوما ۔ مگر مجھے اس میں انہی جلوہ نظر نہ آیا اس لئے میں نے پیر صاحب کی نقل نہ کی اور اس لڑکے کو نہ چوتا ۔ پھر انہیں دہی جلوہ آگ میں نظر آیا اور مجھے بھی اس آگ میں خدا تعالیٰ کا جلوہ نظر آگیا ۔ پس انہوں نے آگ کو چھونا اور میں نے بھی آگ کو چھو کا لیکن میرا چومنا ایک حقیقت پر مبنی ہے اور تم نے جو اس بچہ کو چوما تو محض ایک نقل تھی جبه تو در حقیقت خوشی میں شامل ہونا اسی کو نصیب ہوتا ہے۔ جو آگ کے شعلوں کو چومنے کے لئے تیار ہوتا ہے اور اسی کا حق ہے کہ وہ عید منائے کیونکہ جب تک کوئی شخص آگ کے شعلوں میں سے نہیں گذرتا اس وقت تک وہ حقیقی خوشی بھی نہیں دیکھ سکتا ۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح جس نے اپنے بیٹے کی قربانی کر دی خواہ تعلیم و تربیت کے رنگ میں اور خواہ وقف زندگی کی صورت میں اُسے حق ہے کہ وہ اس عید کی خوشی میں شریک ہو ۔ اور اگر وہ اپنی اولاد کو خدمت دین کے لئے وقت نہیں کرتا اور نہ ان کی اس رنگ میں تربیت کرتا ہے جس رنگ میں اسلام اس سے مطالبہ کرتا ہے تو یقینا اس کا اس عید میں شامل ہونے کا کوئی حق نہیں۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ منافق لوگوں کو جب جہاد پر جانے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ بہانے بنا بنا کر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں الیہ مگر مسلمان جب فتح پا کر اور مال غنیمت لے کہ بیکریوں اور اونٹوں کے گلے ہانکتے ہوئے واپس آتے ہیں تو وہ منافق بھی دوڑ کر ان کے پاس پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ ہمیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ دو اور نہیں بھی ان گلوں اور ریوڑ دوں کی تقسیم میں شریک کر دی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب اس قسم کے منافق تمہارے پاس پہنچیں تو تم انہیں دھتکار دو اور کہو کہ دور ہو جاؤ تمہاری نظروں سے۔ جب جہاد میں شامل نہیں ہوئے تو تمہارا کیا حق ہے کہ ہوجاؤ سے نہ جہاد میں تو تیار تم مال غنیمت میں شامل ہو۔ اسی طرح جس نے حضرت ابراہیم کے تباد میں شمولیت کی، اس کا حق ہے