خطبات محمود (جلد 2) — Page 254
۳۵۴ کو چومنے کی جرات نہ کی۔ان کو تو خدا نے محفوظ رکھا۔اور باوجود شعلوں کو بوسہ دینے کے نہ ان کے سر کے بال جملے اور نہ داڑھی کا کوئی بال جدا۔لیکن اگر دوسرے بھی چومتے ، تو انہیں خطرہ تھا کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال جل جائیں گے اور وہ کنڈمنڈ ہو کر گھر پہنچیں گے۔غرض جب کوئی بھی آگے نہ بڑھا تو ده م بریس نے شعلوں کو چوما تھا کہنے لگا۔میں نے تمہارے اعتراض کو سن لیا تھا مگر بات یہ ہے کہ تم حقیقت تک نہیں پہنچے تھے تم نے سمجھا کہ پر صاحب نے اس لڑکے کو چوما ہے حالانکہ پیر صاحب نے اس لڑکے کو نہیں چھوٹا۔اس کے اندر انہیں کوئی کر دھانی قابلیت نظر آئی ہوگی۔جس نے کسی آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونا ہوگا اور اسی وجہ سے انہوں نے اسے چوما۔مگر مجھے اس میں وہ انہی جلوہ نظر نہ آیا اس لئے میں نے پیر صاحب کی نقل نہ کی اور اس لڑکے کو نہ چوما۔پھر انہیں دہی جلوہ آگ میں نظر آیا اور مجھے بھی اس آگ میں خدا تعالے کا حلوہ نظر آگیا۔پس انہوں نے آگ کو چوما اور میں نے بھی آگ کو چوما لیکن میرا چو منا ایک حقیقت پر مبنی ہے اور تم نے جو اس بچہ کو جوما تو محض ایک نقل تھی۔تو در حقیقت خوشی میں شامل ہونا اسی کو نصیب ہوتا ہے۔جو آگ کے شعلوں کو چومنے کے لئے تیار ہوتا ہے اور اسی کا حق ہے کہ وہ عید منائے کیونکہ جب تک کوئی شخص آگ کے شعلوں میں سے نہیں گذرتا اس وقت تک وہ حقیقی خوشی بھی نہیں دیکھ سکتا۔پس حضرت ابراہیم علیہ سلام کی طرح جس نے اپنے بیٹے کی قربانی کر دی خواہ تعلیم و تربیت کے رنگ میں اور خواہ وقف زندگی کی صورت میں اُسے حق ہے کہ وہ اس عید کی خوشی میں شریک ہو۔اور اگر وہ اپنی اولاد کو خدمت دین کے لئے وقف نہیں کرتا اور نہ ان کی اس زنگ میں تربیت کرتا ہے جس رنگ میں اسلام اس سے مطالبہ کرتا ہے تو یقینا اس کا اس عید میں شامل ہونے کا کوئی حق نہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ منافق لوگوں کو جب جہاد پر جانے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ بہانے بنا بنا کر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں یہ مگر مسلمان جب فتح پا کر اور مال غنیمت لے کر بکریوں اور اونٹوں کے گلتے ہانکتے ہوئے واپس آتے ہیں تو وہ منافق بھی دوڑ کر ان کے پاس پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ہمیں بھی مالی نقیمت میں سے حصہ دو اور تمہیں بھی ان گلوں اور ریور ون کی تقسیم میں شریک کرو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب اس قسم کے منافق تمہارے پاس پہنچیں تو تم انہیں دھتکار دو اور کہو کہ دور ہو جاؤ ہماری نظروں سے۔جب جہاد میں شامل نہیں ہوئے تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم مال غنیمت میں شامل ہو۔اسی طرح جس نے حضرت ابراہیم کے جہاد میں شمولیت کی ، اس کا حق ہے