خطبات محمود (جلد 2) — Page 253
۲۵۳ کے سامان کئے ہوئے ہیں ۔ اور ایک ہماری جماعت ہی ایسی ہے جسے اولاد کی اعلیٰ تربیت کے سامان میستر ہیں مگر کھتے ہیں جو ان سامانوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عید کے موقعہ پر خوشی منانے کے۔ لئے تو بعض لوگ سب سے آگے آجاتے ہیں۔ لیکن اگر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اپنی اولاد کی قربانی نہیں کرتے اور اسے اسلام کی خدمت کے لئے وقت نہیں کر دیتے تو ان کا کیا حق ہے کہ وہ اس خوشی میں شامل ہوں جب کہ وہ وہ کام نہیں کرتے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خوشی میں شامل ہونے کا اسی کو حق ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام حبیبی قربانی بھی کرتا ہے ۔ بے شک یہ خوشی منانے کا ابو بکر کو حق حاصل تھا جس نے خدا کے لئے ہر قسم کی قربانی میں حصہ لیا۔ بے شک یہ خوشی منانے کا عمر، عثمان اور علی کو حق حاصل تھا جنہوں نے ہر قسم کی قربانی میں حصہ لیا ۔ اور بیشک یہ خوشی منانے کا طلحہ زبیر عبد الرحمن بن عوف، حمزہ ، عباس اور عثمان بن مظعون کو حق مفصل تھا جنہوں نے اپنی جانوں، اپنے بالوں اپنی اولادوں اپنے رشتہ داروں اور اپنی عزیز سے عزیز چیزوں کو خدا کے لئے قربان کر دیا ۔ مگر دوسروں کا کیا حق ہے کہ وہ اس خوشی میں شریک ہوں ۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہتے ہیں نظام الدین صاحب اولیاء جن کی طرف خواجہ حسن نظامی صاحب بھی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ایک دفعہ اپنے مریدوں کے ساتھ بازار میں سے گذر رہے تھے کہ انہیں ایک خوبصورت لڑکا نظر آیا جسے آگے بڑھ کر انہوں نے چوم لیا۔ یہ دیکھ کر ان کے کہ انہیں لڑکا نظر آیا جسے آگے بڑھکر انہوں نے چوم لیا۔ یہ دکھ کر ان کے تمام مرید ایک ایک کر کے آگے بڑھے اور انہوں نے اس بچے کو چومنا شروع کر دیا ۔ مگر ان کے ایک مرید جو بعد میں ان کے خلیفہ بھی ہوئے۔ خاموش کھڑے رہے اور انہوں نے اس بچے کو نہ چوما ۔ یہ دیکھ کر باقی سب نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں اور کہا کہ پیر صاحب نے اس بچہ کو چوما مگر اس لئے نہیں چھونا۔ معلوم ہوتا ہے اس کے اخلاص میں کوئی نقص ہے حالانکہ اسے چاہئیے تھا یہ پیر صاحب کی نقل کرتا ۔ اور جس طرح پیر صاحب نے اسے چھوٹا تھا اسی طرح یہ بھی چومتا اس نے ان باتوں کو سنا مگر کوئی جواب نہ دیا اور حضرت نظام الدین صاحب اولیاء پھر آگے چل پڑے ۔ چلتے چلتے انہوں نے ایک بھٹیاری کو دیکھا کہ وہ دانے بھون رہی ہے اور بھٹی میں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں حضرت نظام ال حضرت نظام الدین صاحب اولیاء آگے بڑھے اور انہوں نے آگ کے ان شعلوں کو چوم لیا ۔ یہ دیکھ کر اور تو کسی مرید نے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کی مگر دیہی مرید جس نے بچہ کو نہیں چونا تھا آگے بڑھا اور اس نے بھی شعلے کو چوم لیا۔ پھر اس نے باقیوں سے کہا کہ اب شعلے کو کیوں نہیں چومتے؟ بہت ہے تو آگے بڑھو اور اسے چومو مناسب پیچھے ہٹ گئے اور کسی نے ان شعلوں