خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 18

A مدد اور تائید کریں اور اسے صنائع نہ ہونے دیں لیکن یہ بات کس قدرا فسوسناک ہے کہ وہ لوگ جن کو خدا تعالے صحابہ میں سے قرار دیتا ہے ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے متعلق ان کے سیکرڑی یہ رسجدہ شکایات کرتے رہتے ہیں ۔ کہ انہیں جب کبھی کسی دینی کا می کسی دینی کام میں حصہ لینے کے لئے کہا جائے تو کہ دیتے ہیں کہ ہماری تو اپنی بہت سی ضروریات ہیں یا اور اسی قسم کے عذرات پیش کر دیتے ہیں ۔ ایک شخص نے مجھے لکھا کہ میری بیوی کہتی ہے کہ تم قادیان میں کچھ نہ بھیجو اور جس قد وہاں بھیجتے ہو اس سے آدھا مجھے دے دیا کرو۔ میں اس کے بدلے اپنا مہر تمھیں معاف کر دونگی کیا ئیں اس کی بات مان لوں ۔ اس شخص کا مجھ سے یہ پوچھنا ہی بتا رہا ہے کہ اس کے دل میں خدا تعالے کے راستہ میں خرچ کرنے کا کس قدر جوش ہے۔ اس نے مجھ سے پوچھے بغیر سی کیوں نہ اپنی بیوی کی بات کو یہ کہ کر رد کر دیا کہ میں تیرا حکم مانوں یا خدا کا ۔ پھر کئی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنا گو یا نقصان اٹھانا خیال کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کے لئے جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے وہ بیج کی طرح ہوتا ہے کبھی کوئی زمیندار ایسا نہیں دیکھا گیا کہ جو زمین میں اس خیال سے بیج نہ ہوئے کہ اُسے بیج کے صنائع چلے جانے کا ڈر ہے بلکہ وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ جب میں کھیت میں دانے ڈالوں گا تو وہ بہت زیادہ بڑھیں گے۔ اسی طرح اللہ تعالے کے لئے جو خرچ کرتا ہے وہ بھی بیج کی طرح ڈالتا ہے۔ اور جس طرح کھیت میں ڈالا ہوا ایک دانہ سینکڑوں دانے پیدا کر دنیا ہے اسی طرح خدا کے راستہ خدا کے راستہ میں خرچ کرنے پر بہت کچھ ملتا ہے اگر کوئی خدا کے لئے خرچ نہیں کرتا تو اس کے لئے ہیں کہہ سکتے ہیں کہ اسے اس بات پر ایمان نہیں کہ خدا کسی سے کچھ لے کر اسے صنائع نہیں ہونے دیا۔ کیونکہ اگر اسے یہ ایمان حاصل ہو تو ضرور خدا کے لئے اسی یقین اور المیان سے خرچ کرے جس کے ساتھ زمیندار کھیت میں دانہ ڈالتا ہے اور خوشی خوشی ڈالتا ہے کہ بہت زیادہ دانے حاصل ہوں گے کوئی زمیندار مصیبت اور تکلیف سمجھ کر بیچ نہیں ڈالتا بلکہ خوشی خوشی ایسا کرتا ہے لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دین کے راستہ میں خرچ کرنے والے اول تو اس خیال سے خرچ ہی نہیں کرتے کہ ہمارا مال خرچ ہو جائے گا اور جو خرچ کرتے ہیں وہ اس یقین اور ایمان کے ساتھ خرچ کرتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ گا جو ہیں وہ اور ایمان کے ساتھ کرتے ہیں کہ ہم نے پو چھے دیا وہ ضائع ہو گیا ۔ اس سے ہمیں کچھ حاصل نہ ہو گا حالانکہ خدا تعالی کہتا ہے کہ جو میرے راستے میں خرچ کرتا ہے اسے سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہم دیتے ہیں ملا زمین میں بویا ہوا دانہ اس قدر دانے نہیں اُگا سکتا لیکن خدا تعالے تو کہتا ہے کہ میں سات سو نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ دیتا ہوں اور زیادہ کی کوئی حد بندی نہیں ۔ اس کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال کو دیکھ لو کہ کس طرح خدا کے لئے ایک اند