خطبات محمود (جلد 2) — Page 245
۲۴۵ علیہ کا پس خدا تعالے نے یہ خواب دکھا کہ دو اہم امر بیان فرما دیئے۔ یہ بھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بیٹا خدا تعالے کی راہ میں قربان کرنا ہوگا ۔ اور یہ بھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب ظاہری رنگ میں بیٹے کی قربانی کرنا چاہیں گے تو میں انہیں منع کر دوں گا اور کہوں گا کہ انسان کی اس رنگ میں قربانی میں نہیں چاہتا۔ اسی حکمت کے ماتحت خدا تعالے نے تصویری زبان میں نہیں یہ تمام نظارہ دکھایا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان بھی ہو گیا اور وہ شرح صدر سے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کا بھی امتحان ہو گیا اور وہ بھی خوشی سے ذبح ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔ اور دوسری طرف جب وہ اپنے بیٹے کو قربان کرنے گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا دیا کہ میرا اس قربانی کے حکم سے یہ دیا اس کے کیا مفہوم نہیں تھا بلکہ کچھ اور تھا۔ انسانوں کی ظاہری قربانی میں پسند نہیں کرتا اور یہ آئندہ کے لئے ممنوع قرار دی جاتی ہے ۔ له پس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنی نوع انسان پر یہ عظیم الشان احسان کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے ارادہ کے ساتھ ہی آئندہ انسانوں کی قربانیوں کو روک کر انہیں ہلاکت سے بچا لیا ۔ اصلی قربانی کیا تھی؟ وہ جیسا کہ میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے یہ تھی کہ اللہ تعالے چاہتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسمئیل علیہ السلام کو مکہ میں چھوڑ آئیں تا کہ وہ بیت اللہ کی حفاظت اور دین ابر اہیمی کی خدمت کریں ہے اور ان کیلئے ذریعہ وہ اولاد پیدا ہو جس کے ہاتھوں خدا تعالئے اپنے دین کا آخری دور قائم کرنا چاہتا تھا۔ میں درحقیقت حضرت اسمعیل علیہ السلام کو جس دن بیت اللہ کے پاس چھوڑا گیا اس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد کا اعلان کیا گیا۔ کیونکہ بیت اللہ نے رسول کریم صل اللہ علیہ آلہ وسلم کے زمانہ میں ہی اللہ تعالیٰ کے ذکر کا آخری گھر ہونا تھا۔ اور اس کی تیاری صرف حضرت اسمعیل علیہ السلام کے زمانہ سے کی گئی تھی جیسے یہاں اب عید کا خطبہ ہونے لگا ہے مگر بعض دوست رات سے ہی یہاں آگئے تھے جنہوں نے صفائیاں کیں۔ چٹائیاں سمجھائیں اور دیگر انتظامات کئے۔ اور پھر صبح سے وائرلیس والے آگئے جنہوں نے بیٹریاں تیار کیں ، بجلی کی تاریں درست کہیں اور اسی طرح کے اور انتظامات کئے تا کہ جب آپ لوگ آئیں تو آسانی سے بیٹھ کر خطبہ سن سکیں۔ تو جب کوئی بڑا کام ہونے لگتا ہے تو پہلے سے اس کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چونکہ مکہ میں ظہور مقدر تھا۔ اس کے متعلق اللہ تعالے نے دو بر ارسال پہلے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ذریعہ سے تیاری شروع کر دی ۔ یہ کتنا اہم مقام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حاصل ہے کہ دو ہزار سال پہلے اللہ تعالے حضر ابراہیم اور حضرت