خطبات محمود (جلد 2) — Page 244
۲۴۴ ۲۸ ر فرموده ۲۰ جنوری ۹۳ائه بمقام عیدگاه قاریا) آج کی عید جو عید الاضحیہ کہلاتی ہے یعنی وہ عید جو قربانیوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ۔ حج و عیدالاضحی ہے وہ جو کے تعلق کہتی ہے ۔ کے دوسرے دن اور اس کے ساتھ وابستہ و پیوستہ ہو کہ آتی ہے یہ اس تقریب کی وجہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ قربانی بیان کی جاتی ہے۔ جو انہوں نے اپنے بیٹے کی خدا کے حضور پیشین کی پس یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی یادگار ہے کہ انہوں نے اللہ تعالے کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔ بیٹوں کی ظاہری رنگ میں قربانی تو اسلام نے ناجائز بتائی ہے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی قربانی کرنے کا حکم دینے کی وجہ بھی یہی تھی کہ اللہ تعالئے دنیا میں اس اصل کوت کم کرنا چاہتا تھا کہ آئندہ کے لئے بیٹوں کی ظاہری قربانی ممنوع قرار دی جاتی ہے ور نہ ہو سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواب کی جو تعبیر تھی اس مضمون کو اللہ تعالے اس صورت میں نہ دکھاتا بلکہ کسی اور صورت میں دکھا دیتا کیونکہ آخر اللہ تعالیٰ کے حضوران کے بیٹے کی ظاہری قربانی مقصود نہیں تھی ۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام نبی ہونے والے تھے اور جس شخص کے لئے نبوت مقدر تھی۔ اس کے متعلق یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالئے اپنے نبی سے کتا کہ اسے ذبح کر دو۔ پس خدا تعالے کا شروع سے ہی یہ مقصد نہ تھا کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ذبح کیا جائے بلکہ یہ رویا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دکھا یا گیا تعبیر طلب تھا اور جبکہ اللہ تعالے کا مفہوم کچھ اور تھا اور جب کہ رویا بھی تعبیر طلب تھا تو سوال ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو کسی اور صورت میں کیوں نہ بیان کر دیا۔ خواب آئندہ رونما ہونے والے واقعات کی ایک تصویر ہوتی ہے۔ جیسے مصور تصویریں کھینچتے ہیں ویسے ہی اللہ تعالے خوابوں میں واقعات کی تصویر کھینچ کر اپنا مفہوم بیان کر دیتا ہے ۔پھر جبکہ اللہ تعالے اس مصوم کو کسی اور رنگ میں بھی بیان کر سکتا تھا تو سوال ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالے نے اس رنگ میں یہ مفہوم کیوں بیان کیا ؟ نے یہ کیا اس کا جواب یہی ہے کہ اس سے پہلے لوگ اپنے بیٹوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ اور اللہ تعالے نہ وہ چاہتا تھا کہ نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وہ یہ خبر دے کہ وہ آپ سے اپنے بیٹے کی قربانی کرانا چاہتا ہے بلکہ اس امرت بھی انہیں مطلع کرے کہ ابراہیمی دین میں انسانوں کی ظاہری قربانی جس کا ان کی قوم میں رواج تھا۔ آئندہ جائز نہیں ہوگی ہیں