خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 17

16 نہ سمجھتے تھے تو نہ سہی لیکن ہر ایک مومن مرد اور عورت کے لئے حضرت ہاجرہ کی مثال موجود ہے کہ وہ نبی نہ تھی ۔ ایک عورت تھی اور کمزور دل عورت تھی لیکن اسے ایک ایسے جنگل میں چھوڑا جاتا ہے جو بالکل ویران اور بغیر آباد ہے۔ پھر اس کے لئے موقعہ ہے کہ اپنا بچاؤ کر ہے۔ مگر جب اس نے سنا کہ یہ خدا تو کیا۔ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کیا گیا ہے تو کہا کہ ہم نہیں رہیں گے۔ خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ میں نے حج کے موقعہ پر بڑے بڑے جسیم اور موٹے تازے مردوں کے تازے مردوں کو اس لئے روتے دیکھنا ہے کہ ان سے ان کے ساتھی جدا ہو گئے حالانکہ اگر ساتھی جدا ہو گئے تو کیا مکہ ایک شہر ہے کوئی ویران جنگل نہیں ۔ رستے بنے ہوئے ہیں ، ہر قسم کا انتظام موجود م کا انتظام موجود ہے۔ مگر با وجود اس کے میں نے ساتھیوں کے جھدا ہو جانے کی وجہ سے کئی ایک مردوں کو روتے اور چلاتے دیکھا ہے۔ لیکن دیکھو ہاجرہ عورت ہو کر ایک ایسے جنگل میں رہتی ہے جس میں کھیتی تک نہیں ہوتی اور پانی کا ایک قطرہ تک نہیں مل سکتا۔ کوئی آبادی نہیں، کوئی خبر گیراں نہیں، کوئی محافظ نہیں لیکن جب اُسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجھے خدا کے جسم کے ماتحت یہاں چھوڑا گیا ہے تو کہتی ہے کہ خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ یہ کامل ایمان کی علامت ہے۔ جب تک کسی میں ایسا ہی ایمان نہ ہو اس وقت تک وہ مومن نہیں کہلا سکتا اور جس میں ایسا ہی ایمان نہ ہو وہ یہ امید کیونکر رکھ سکتا ہے کہ خدا مجھے صنائع نہیں کرے گا ۔ اس وقت خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت سے بھی ایسا ہی ایک معاملہ کیا ہے ۔ ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی ایک قربانی کرنی پڑتی ہے۔ ان سے عہد لیا جاتا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے لیکن افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہے جو یہ کتے ہیں کہ ہماری بڑی ضروریات ہیں ہم دین کے لئے کہاں سے خرچ کریں ۔ حالانکہ وہ نہیں دیکھتے کہ حضرت ہاجرہ سے زیادہ قربانی تو ان سے نہیں کرائی جاتی ۔ اس کی قربانی کو دیکھیں اور پھر اپنی قربانی پر نظر کریں اور پھر حضرت ہاجرہ کے ایمیان کو دیکھیں تو انہیں معلوم تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ہاجرہ سے ابھی بہت پیچھے سے ابھی بہت پیچھے ہیں ۔ حالانکہ یہ مرد ہیں اور دہ عورت تھی۔ پھر عورتیں بھی اس سے بہت پیچھے ہیں ۔ حالانکہ ہاجرہ بھی انہیں کی طرح کی ایک عورت تھی اور اسی آدم کی اولاد تھی جس کی ہم سب ہیں مگر جس ایمان کو اس نے ظاہر کیا وہ تمام مردوں عورتوں کے لئے قابل رشک ہے ۔ مگر افسوس ہے کہ کئی لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اگر دین کے لئے خرچ کرنے کو کہا جائے تو آگے سے کئی قسم کی مجبوریاں پیش کر دیتے ہیں اور کئی قسم کے قسم کے عذرات گھڑ لیتے ہیں حالانکہ ہر ایک عید انہیں بتاتی ہے کہ خدا کے لئے جو قربانی کی جاتی ہے وہ بھی ضائع نہیں جاتی۔ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں پیش کی جا سکتی کہ خدا کے لئے کسی نے کوئی قربانی کی ہو اور اس کا نتیجہ اس کے حق میں عمدہ نہ نکلا ہو۔ بلکہ جس کسی نے بھی خدا کے لئے قربانی کی ہے اس کے لئے خدا تعالے نے ملائکہ مقرر کر دیتے ہیں کہ اس کی