خطبات محمود (جلد 2) — Page 237
۲۳۷ جب میں نے یہ اور چنانچہ میں بھی قسمت آزمائی کے طور پر چند شعر کہکہ اس مجلس میں حاضر ہوا ۔ اور جب میری باری آئی تو میں نے یہ شعر سنائے فضل پر سکی اور اس کے بھائیوں اور اس کے باپ کو یہ شعر ایسے پسند آئے کہ انہوں نے لاکھوں روپیہ مجھے انعام میں دیا ۔ اور کئی خادم اور کئی گھوڑے اور کئی اونٹ اور چاندی اور سونے کے برتن اور غالیچے اور قالین اور عطریات کا اتنا بڑا خزانہ میرے حوالہ کیا کہ میں دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ اور میں نے کہا حضور میرے گھر میں تو اس کے رکھنے کی بھی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا ۔ کوئی شکریت کہ وہ فلاں محلہ میں فلاں بڑی عمارت کو ابھی ہمارے خادموں نے تمہارے لئے خرید لیا ہے ۔ اور ہمارے خادم ہی یہ سب مال اسباب اس نئے محل میں ابھی بھی پہنچا دیں گے ۔ اس دن سے میں امراء میں شمار ہوتا ہوں۔ اور مجھے یہ شعر نہایت ہی پیارے ہیں کہ انہوں نے میری حالت کو بدل دیا اور تنگی سے نکال کر فراغت سے آشنا کیا۔ اس غلام نے کہا جانتے ہو کہ وہ شعر جن کی وجہ سے تم اس مرتبہ کو پہنچے میں بیٹے کے لئے کئے گئے تھے وہ میں ہی ہوں نے یہ شعر تمہاری: ماری زبان سے سنے تو مجھے وہ واقعہ یاد آگیا ۔ جو میں نے اپنی دائیوں کھلائیوں سے سنا ہوا تھا کہ تیری پیدائش پر ایک شاعر کو اتنا انعام دیا گیا تھا اور میں نے کہا کہ وہ بچہ جس کی پیدائش پر یہ انعام دیا گیا تھا اور جن شعروں کی وجہ سے انعام دیا گیا تھا وہ شعر آج ایک اجنبی حکام میں اس راحت و آرام سے پڑھ رہا ہے اور وہ لڑکا جس کے لئے یہ شعر کیے گئے تھے ، ایک خادم کی حیثیت سے اس کا جسم مل رہا ہے ۔ اس شاعر پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ اس کو چمٹ گیا اور رونے لگا اور اس نے کہا کہ میری ساری دولت تمہارے باپ دادا کی دی ہوتی ہے اور یہ تمہاری ہی دولت ہے ۔ تم میرے گھر چلو، میں خادموں کی طرح مہاری خدمت کروں گا اور تمھیں کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا ۔ اس لڑکے نے جواب دیا کہ جس ذلت کو ہم پہنچ چکے ہیں وہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ اب میں اس کے ساتھ یہ مزید ذلت نہیں خریدنا چاہتا کہ جو انعام میرے باپ نے دیا تھا وہ جا کر خود استعمال کرنا شروع کر دوں ۔ مگر چونکہ میرا راز اب کھل گیا ہے اس لئے ہمیں اب اس جگہ بھی نہیں رہ سکتا ۔ اب میں کسی اور علاقہ میں نکل جاؤنگا جہاں مجھے جاننے والا کوئی نہ ہو اور کوئی محرم راز میری مشکل کو دیکھ کر میرے آباء کی ذلت کو یاد کرے یہ کہکر وہ اُٹھ کر وہاں سے چلا گیا اور نہ معلوم کہاں غائب ہو گیا۔ دیکھو یہ ایک مثال ہے کہ باپ دادا کی عزت جب کہ اولاد اس عزت میں شریک نہ رہی اولاد کو کوئی نفع نہ پہنچا سکی بلکہ شریف اولاد کے لئے زیادہ تکلیف کا موجب ہو گئی ۔ بے شک کمینہ انسان اس رستہ کو چھوڑ کر جس پر چل کر اس کے آباد آباد نے عزت حاصل حاصل کی تھی فخر کرتا ہے۔ مگر وہ اس سے صرف اپنی کمینگی کا اظہار اپنی کرتا ہے ورنہ شریف انسان تو اس واسطہ کو مٹا دیتا ہے۔ اسے چھپا دیتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے