خطبات محمود (جلد 2) — Page 236
۲۳۶ ہمارے دادا کو یہ عدت نصیب ہوئی تھی اور چونکہ وہ خوش ہوا تھا اس لئے ہم بھی خوشی مناتے ہیں یا ہم اس دن اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے کچھ بھائی جو دور دراز کا سفر کر کے خدا تعالے کے گھر کے پاس اپنے ایمان اور اخلاص کا تحفہ پیش کرنے کے لئے گئے تھے وہ اس پیش کش میں کامیاب ہو گئے اور حج مبرور ادا کر کے انہوں نے خدا تعالے کے گھر میں عزت حاصل کی۔ پس چونکہ ہمارے بھائیوں کو خوشی پہنچی اس لئے ہم بھی خوش ہیں۔ پس ہماری یہ خوشی درثہ کی خوشی ہوتی ہے اور ان دونوں عیدوں میں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کسی قوم کی مکمل خوشی اسی میں ہے کہ اسے دونوں خوشیاں پہنچیں۔ ایک خوشی تو یہ کہ اس کو ذاتی قربانی کرنے کی توفیق ملے اور دوسری خوشی یہ کہ اس کے آباء کو بھی خدا تعات کی راہ میں مہربانی کرنے کی توفیق عطا ہو جب کسی قوم کو یہ دونوں خوشیاں نصیب ہو جائیں تو اس واقعہ آیا۔ لوانے کے لئے کی خوشی مکمل ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ اگر کوئی شخص یہ دیکھتا ہے کہ میرے ماں باپ تو معزز و مکرم تھے لیکن میں ذلیل ہوں تو اس کا دل رنج سے بھر جاتا ہے اور وہ خوش نہیں رہ سکتا نہ تاریخوں میں ایک یا ہے کہ ایک امیریت فرایک دن حمام میں نہانے کے لئے گیا ۔ اور وہاں اس نے نے اپنے اپنا جسم کے لئے ایک خادم کو بلوانے کا حکم دیا۔ حمام والے یا جمام والے نے ایک مضبوط نوجوان اپنے نوکروں میں سے اس کا ہم ملنے کے لئے بھیجوا دیا ۔ جب اس نے تہہ بند وغیرہ باندھ لیا اور اپنے کپڑے اتار کر حمام میں بیٹھ گیا اور خوشبودار پانی اپنے جسم پر ڈالا اور خوشبودار مسالے خادم نے اس کے جسم پر ملنے شروع کئے تو اس وقت کی کیفیت اسے ایسی لطیف معلوم ہوئی کہ اس نے اپنے نفس میں موسیقی کی طرف رغبت محسوس کی اور کچھ گنگنا کنگنا کو شعر پڑھنے لگا ۔ جب وہ شعر پڑھ رہا تھا تو اچانک اس ملازم کی حالت متغیر ہو گئی اور اس کی چیخ نکل گئی اور وہ بہیوش ہو کر زمین پر گر گیا ۔ اس غسل کرنیوالے نے سمجھا کہ شاید اس کو مرگی کا دورہ ہوا ہے اور اس نے حکام کے افسر کو بلایا۔ اور اس کے پاس شکایت کی کہ تم نے میرے جسم کو ملنے کے لئے ایک مجنون اور بیمار کو بھیج دیا۔ اس نے معذرت کی اور کہا کہ آجتک اس نوجوان کی بیماری کا حال مجھے معلوم نہیں ہوا، یہ تو بالکل تندرست تھا۔ بہر حال وہ اسے ہو ہوش میں لا کیا واقعہ ہے، آجتک تو تم پر کبھی ایسا دورہ نہیں ہوا تھا ۔ اس نوجوان نے نہایت گھبرائی ہوئی حالت میں اس شاعر سے دریافت کیا کہ کیا کہ آپ نے جو یہ شعر پڑھے تھے یہ آپ نے کس سے سنتے ہیں اس نے کہا میرے اپنے ہیں اور مجھے نہایت ہی محبوب ہیں۔ کیونکہ میں نہایت غریب ہوتا تھا اور نان شبینہ تاک کا بھی محتاج تھا۔ اتفاقاً مجھے معلوم ہوا کہ فضل ہو سکی جو ہارون الرشید کے وزراء میں سے ایک وزیر تھا اور یکجا برمکی وزیر اعظم کا بیٹا تھا اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور شاعروں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ شعر کہکہ لائیں ۔ پھر جو مقابلہ میں اول آئے گا اسے انعام دیا جائے گا لاتے اور اس سے پوچھا کہ یہ ؟