خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 233

سم و٢ ۲۷ و فرموده یکم فروری ۱۹۳۷ء بمقام عیدگاه قادیان) مسلمانوں میں دو عیدیں منائی جاتی ہیں۔ ایک عید ، عید الفطر کہلاتی ہے جسے ہمارے ملک کے لوگ چھوٹی عید کہتے ہیں اور دوسری عید عید الاضحیہ کہلاتی ہے جسے ہمارے ملک میں بڑی عید کتے ہیں ۔ ان ۔ یار ان کے علاوہ جمعہ بھی مسلمانوں کے نزدیک عید ہے لیے اور چونکہ قرآن کریم میں جمعہ کی نمازہ اور کا خصوصیت کے ساتھ ذکر آتا ہے، اس لئے بعض اولیاء نے جمعہ کی عید کو ان دونوں عیدوں سے بھی بڑا قرار دیا ہے یہ بہر حال اجتماع کے لحاظ سے یہ دونوں عیدیں اپنے اندر خصوصیت رکھتی ہیں اور چونکہ خوشی کا مظاہرہ لوگ جلد جلد نہیں کر سکتے۔ اس لئے بھی ان عیدوں کی لوگ زیادہ خوشی سناتے ہیں۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے متعلق فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے کھانے پینے کے دن ہیں کہ گویا اس طرح ان عیدوں کی اجتماعی خوشی کے لحاظ سے آپ نے ایک جداگانہ حیثیت قرار دی ہے۔ پس ان عیدوں میں جو سبق ہے وہ جمعہ کی عید سے مختلف قسم کا ہے اور ہمیں اس سبق کے سمجھنے اور اسے یا د رکھنے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔ اس سبق کے سمجھنے سے پہلے ہمیں انسان ب انسانی فطرت کا مطالعہ کرنا چاہیئے اور دیکھنا چاہیے کہ انسان کو جو خوشی پہنچتی ہے ، وہ کتنی قسم کی ہوتی ہے۔ چنانچہ جب ہم انسانی فطرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو نہیں انسانی خوشی دو قسموں میں منقسم معلوم ہوتی ہے ۔ ایک خوشی تو وہ ہوتی ہے جس کا منبع انسان کا اپنا وجود ہوتا ہے اور دوسری خوشی وہ ہوتی ہے جو دوسروں سے اسے ورثہ میں ملتی ہے جسے متعدی خوشی کہنا چاہیئے۔ یعنی پہلے اس خوشی کو چند افراد حاصل کرتے ہیں اور پھر آگے اسے اپنی اولادوں اور اولادوں کی اولادوں کی طرف منتقل کر دیتے ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ چیز انسانی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اپنے آباء کی عزت اور خوشی میں اپنی خوشی اور عزت سمجھتا ہے۔ چنانچہ قومی مخیر یا خاندانی فخر اسی کی مثال ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا جب پوچھا پوچھا کے گیا کہ کونسا شخص زیادہ اشرف ہے تو آپ نے فرمایا کہ یوسف جو نبی کا بیٹا تھا اور پھر جو آگے ایک اور نبی کا بیٹا تھا ۔ گویا حضرت یوسف کی عزت کی وجہ آپ نے یہ قرار دی کہ وہ ایک نبی کا بیٹا تھا اور اس کا باپ پھر ایک بہنی کا بیٹا تھا۔ گو یا متواتر اس کے آباد میں سے دو باپوں کو نبوت کا فخر حاصل ہونے کی وجہ سے حضرت یوسف کی نوبت بھی بڑھ گئی، اور اس لحاظ سمجھنا چاہیئے کہ اس کی خوشی بھی بڑھ گئی ۔ اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم