خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 16

۱۶ کوئی ہاجرہ ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور کہا ۔ آپ ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہیں۔ یہاں نہ پانی ہے نہ کھانا، نہ ساتھی ہے اور نہ آبادی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کچھ جواب نہ دیا ۔ آپ پر اس وقت رفت کہنے ماری تھی اور آپ بول نہ سکتے تھے۔ حضرت ہاجرہ نے پھر کہا کہ آپ ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہیں اس کا بھی انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر تیسری دفعہ حضرت ہاجرہ نے کیا۔ آپ ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہیں ۔ پھر بھی آپ خاموش رہے ۔ خاموش رہے ۔ اس پر حضرت ہاجرہ نے کہا ۔ کیا خدا تعالے نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے جواب میں صرف اتنا کہ سکے کہ ہاں۔ اس سے زیادہ اور کچھ جواب نہ دے سکے۔ نبیوں کا دل تو پہلے ہی بہت نرم ہوتا ہے۔ اور یہ نظارہ ہی ایسا تھا کہ سخت سے سخت دل رکھنے والا بھی پگھل جاتا۔ دیا اس سے دیکھو کہ حضرت ہاجرہ کا ایمان کیسا مضبوط اور قوی تھا۔ وہ موقعہ ایسا تھا کہ اگر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چل پڑتیں تو انہوں نے کیا کہنا تھا یا کم از کم ان کو پکڑ کر مٹھ رہیں کہ ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہو۔ میں آپ کو بھی جانے نہیں دوں گی ۔ یا اگر یہ بھی نہ ہو سکتا تو ان کے پیچھے پیچھے ہی چل پڑتیں۔ اور اگر ان کے ساتھ نہ جائیں تو کسی بستی اور آبادی میں ہی چلی جاتیں اس طرح کچھ حرج بھی نہ تھا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو حکم ہوا تھا وہ تو انہوں نے پورا کر دیا تھا۔ اور حضرت ہاجرہ کو کوئی ایسا حکم نہ دیا گیا تھا کہ وہ ضرور وہاں ہی بیٹھی رہیں۔ کوئی کہے کہ حضرت ہاجرہ کو اس دردناک نظارہ کی وجہ سے اتنی ہوش ہی نہ رہی تھی کہ ایسا کرتیں اگر یہ بات مان کی جائے تو کم از کم وہ یہ تو کرتیں کہ روئیں چینچتیں ، چھلائیں اور شور مچاتیں کہ یہ ہم سے کیا دھو کہ کیا گیا ہے۔ یہیں جنگل میں لا کر ڈال دیا گیا ہے اور خود چلے گئے ہیں۔ مگر ہم سے کیا ھو کہ کیا گیا میں لاکر دیا گیا ہے اور خود چلے ہیں۔ مگر اس قسم قسیم کی کوئی ایک بات بھی ان کے منہ سے نہیں نکلی بلکہ کہا تو یہی کہا کہ اذن لا يضيعنا اگر خدا کا یہ حکم ہے تو وہ ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا ۔ نہ وہ روتی ہیں نہ چلاتی ہیں نہ یہ کہتی ہیں کا کہ میں یہاں نہیں بیٹھوں گی۔ بلکہ خدا کا حکم سنار کہتی ہیں کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ جب پانی ختم ہو گیا اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو سخت پیاس لگی اور حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتی پھریں تو خدا تعالے کے فرشتہ نے اس جگہ ایک شمر کے نے پھوڑ دیا۔ اور پھر اسی چشمہ پر ایک قافلہ لا کر ڈال دیا اور وہیں ایک بستی بسادی ہے اب وہاں ہر ایک نعمت ملتی ہے۔ اس سے خدا تعالے نے مسلمانوں کو یہ سمجھایا ہے کہ دیکھو خدا تعالیے کے حکم کے ماتحت کی ہوئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالے کے بنی تھے انہوں نے جو کچھ کیا اپنی شان کے مطابق کیا۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام ابھی بچے تھے ۔ اگر وہ اس وقت کچھ