خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 227

سے دو گے ۔ جب تم نے اس اس روپے کے لئے کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی۔ جبکہ اپنی آمد کے برابر میلے سے ہی تم تشریح کر رہے ہو تو قد مزید ہو مجھے کسی طرح اٹھا سکتے ہو۔ اس صورت میں اگر تم ہو یا دو سور روپے کا وعدہ بھی لکھا دیتے ہو تو اس کے نہیں معنے ہوں گے کہ تم نے محض نام و نمود کے لئے وعدہ لکھوا دیا ورنہ تمہاری نیست شروع سے ہی ہی ہے ۔ تم وعدہ پورا نہ کرو۔ ہیں جب تک کھانے اور پینے اور پہننے اور رہائش کے طریق میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ اس وقت تک کسی مالی قربانی کی توفیق نہیں مل سکتی ۔ اور اگر تم ان حالات میں کوئی وعدہ کرتے ہو تو نہ خدا تعالے سے مسخر کرتے ہو اور پھر اگر یہ وعدہ میعاد کے اندر پورا بھی ہو جاتے تو خدا جائے کے فضل سے پورا ہوگا ۔ تمہارے متعلق ہیں کھا جائے گا کہ تم نے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی ۔ پھر جس قسم کی مالی مشکلات میں سے اس وقت ہمارا سلسلہ گذر رہا ہے ان کی موجودگی میں ہماری موجودہ مالی قربانیاں ہرگز کافی نہیں ہیں۔ اور ہم ان کاموں کو کبھی بھی ایک لمبے عرصہ تک جاری نہیں رکھ سکتے ۔ اس کے لئے ہمیں اپنے بجٹوں پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔ اور ہمیں اپنے طریق تبلیغ پر بھی نظر ثانی کرنی پڑے گی اور ہمیں اپنے سارے کا رکنوں سے ایسے رنگ میں قربانی لینی پڑے گی نے گی جس رنگ میں ان سے پہلے کبھی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا گیا اور نیکیں سمجھتا ہوں کہ مالی دقتوں کے لحاظ سے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے مبلغین سے بھی یا تو آفریدی طور پر خدمت لیں یا اس صیغہ صیغہ کو بالکل بند کر دیں ۔ آخر تحریک جبریہ میں جوم جد میہ میں جو مبلغ کام کر رہے ہیں وہ آنریری کام کر رہے ہیں۔ اور یا پھر نہایت ہی قلیل گذارہ سے رہے ہیں۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ اگر تحریک جدید کے مجاہد اس تر قلیل گزارہ پر کام کر سکتے ہیں تو دو سرے مبلغین کام نہ کر سکیں۔ اور اگر حالات پیدا ہوں تو ان کے سابقہ طریق میں تغیر نہ کیا جائے اسی طرح بیرونی جماعتوں میں جو سلسلہ کے کارکن ہیں ان کے لئے بھی مزید قربانیوں کے دروار کھولے جائیں گے ۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کو اسی وقت ان قربانیوں کی توفیق ملے گی جب وہ تحریک جدید کے اصول کے پابند ہوں گے ۔ اگر وہ ان اصولوں کی پیروی نہیں کریں گے تو کے۔ انہیں قربانی کی توفیق ہرگز نہیں ملے گی کیونکہ جو شخص تیاری نہیں کرتا وہ امتحان میں کا میاب نہیں ہو سکتا۔ پس اسے دوستو! جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے واقعہ کو سنتے اور اس کی یاد میں بکرا یا گائے یا دنبہ ذبح کرتے ہو تمہیں یاد رہے کہ بکرے یا گائے کی قربانی کرنا آسان ہے مگر اپنی جان اپنے مال اپنے آرام اور اپنی آسائش کی قربانی کرنا مشکل ہے۔ حضرت ابراہیم نے