خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 221

٢٢٤ لگایا تھا اور جن کا نام صفا اور مروہ تھا ان میں سے ایک پہاڑی پر دوڑ کر چڑھ گئیں کہ شاید کوئی دور سے قافلہ نظر آئے تو وہ اس سے پانی مانگ سکیں مگر انہیں کوئی قافلہ نظر نہ آیا ۔ پھر وہ اس پہاڑی سے اتر کر دوسری پہاڑی پر دوڑتی ہوئی چڑھیں کہ شاید دوسری طرف سے کوئی قافلہ جاتا ہوا نظر آئے ۔ مگر اس پہاڑی سے بھی انہیں کوئی قافلہ دکھائی نہ دیا۔ اور چونکہ وہ صفا سے جب نیچے اترتی تھیں تو انہیں اپنا بچہ نظر نہیں آتا تھا ، اس لئے دوڑ کر مر وہ پر چڑھتیں تاکہ بچہ ان کی نظروں کے سامنے رہے ایسا نہ ہو کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے ۔ پھر جب مردہ سے اکثریتیں تو اسی طرح دوڑ کر صفا پر چڑھ جاتیں تا دیکھیں کہ کوئی پانی دالا تو وہاں نہیں۔ اس طرح انہوں نے صفا اور مردہ پر سات چکر لگائے مگر کہیں پانی میسر نہ آیا ۔ تب جب کہ ان کی تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچ گئی اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک فرشتہ سے کہا کہ جا اور ہاجرہ کو کہ کہ تیرے لئے پانی خدا تعالیٰ نے پیدا کر دیا ہے۔ چنانچہ ایک فرشتہ آیا اور اس نے آواز دی۔ حضرت ہاجرہ نے اپنے جذبات کے دور میں پہلی دفعہ اس آواز کو پوری طرح نہیں سمجھا۔ اور انہوں نے کہا۔ اسے خدا کے بند سے تیرے پاس کچھ پانی ہے۔ تب اس فرشتہ نے دوبارہ کہا کہ اسے ہاجرہ ! جا اور دیکھ کہ خدا تعالے نے کیسے بیٹے کے لئے چشمہ پھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ وہ واپس آئیں اور انہوں نے دیکھا کہ تقصیر اسمعیل جہاں شدت پیاس سے تڑپ رہے تھے وہاں پانی کا ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے۔ ہا ہے۔ یہ چشمہ در اصل عرصہ سے وہاں تھا مگر اس کا دہانہ مٹی سے بند ہو چکا تھا۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام نے جب پیاس کی شدت میں ایڑیاں رگڑیں۔ تو اس کے دہانہ سے مٹی ہٹ گئی اور چشمہ پھوٹ پڑا ۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے جلدی جلدی ہاتھوں سے اس کے دہانہ پر سے مٹی اٹھائی اور اس کا مونکہ کھول کر چلوؤں سے پانی نکالا ۔ اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو پلایا ۔ گویا وہی اینڈیاں - سے ہی ایڑیاں جو حضرت اسمعیل علیہ السلام کی موت کے قرب پر دلالت کر رہی تھیں اس کی حیات کا باعث ہو گئیں۔ اور انہیں سے وہ چشمہ پھوٹا جس نے ان کو زندہ کر دیا۔ جب وہاں چشمہ پھوٹ پڑا تو قافلے والوں نے وہاں آنا شروع کر دیا ۔ اور انہوں نے حضرت ہاجرہ سے وہاں رہنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہم ٹیکس گزار ہو جائیں گے چنانچہ حضرت ہاجرہ نے انہیں اجازت دیدی اور وہ وہاں رہنے لگ گئے یہ اس طرح رفتہ رفتہ مکہ ایک بہت بڑا شہر بن گیا۔ لیکن ہاجرہ کی عمر خواہ کتنی بھی لمبی ہوئی ہو اس عرصہ میں انہیں جب بھی وہ وقت یاد آ جاتا ہو گا جب ان کا بچہ شدت پیاس سے تڑپ رہا تھا انی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مر اور مروہ کے چکر کاٹ رہی تھیں تو ان کا دل دھڑکنے لگ اور وہ پانی جاتا ہوگا۔ آج اسی کی یاد میں آج سے میری مراد خاص آج کا دن نہیں بلکہ آجکل کے ایام مراد ہیں)