خطبات محمود (جلد 2) — Page 218
VId رفه یت تھے۔ اس اس لئے ان پر پر کوئی کوئی الزام الزام نہیں۔ مگر آپ کے چچا ابو طالب جنھوں نے آپ کی بہت بڑی خدما سرانجام ام دیں دیں انہوں نے آپ کی نبوت کا زمانہ دیکھا لیکن آپ پر ایمان نہیں لائے ۔ اس لحاظ سے سے ابو طالب یقینا اسلام کی موت نہیں مرے ۔ مگر کسی وقت اگر کوئی شخص پوچھے کہ ابوطالب کیسا اتھا تھا تو مونیہ سے انہیں کا فر کہتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی گلا گھونٹ رہا ہے اور یہی نے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بڑی خدمت کی اور دل میں آپ پر ایمان بھی بھی رکھتے تھے مگر ظاہر میں وہ ایمان نہیں لائے ۔ اس طرح سوس ۔ اس طرح سو سو پیچ دے کر بات مونہہ سے نکلتی ہے۔ مگر آخر بات وہیں آکر رہ جاتی ہے کہ وہ آپ پر ایمان نہیں لائے ہماری جماعت میں ایسے کئی لوگ ہیں جنہوں نے مجھ سے یہ سوال کیا اور مجھے انہیں یہی جواب دینا پڑا کہ دیکھو فلاں موقعہ پر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی ۔ اور فلاں موقعہ پر یہ کہا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل میں وہ آپ پر ایمان رکھتے رکھتے تھے گو ظاہر میں وہ ایمان نہیں لائے۔ مگر ان کے متعلق کافر کا کافر کا لفظ مونہ سے نہیں نکلنا کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ و یہ وسلم وسلم کے کے چچا چچا تھے اور انہوں نے آپ کی بہت سی خدمت کی تھی ۔ تو جہاں بھی محبت ہوتی ہے وہا انسانی جذبات بھی اُبھر سے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس نقطہ نگاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے تم سو جو کہ ابراہیم جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا تھے انہوں نے اپنے بیٹے اسمعیل کو کہ وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا تھے اور اپنی بیوی مفر حقیر ہاجرہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دادی تھیں کس طرح اللہ تعالے کے راستہ میں قربان کر دیا ۔ اور کس طرح انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے اسمعیل کو بغیر پانی اور بغیر کھانے اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ کو بغیر کھانے اور بغیر پانی کے مکہ میں اس لئے چھوڑ دیا تا وہ وہاں اللہ تعالے کا نام بلند کریں ۔ وہ نظارہ کتنا درد ناک نظارہ ہوگا۔ میں نے ماؤں کو دیکھا ہے بعض دفعہ منی سے وہ اپنے بچوں کو ڈراتی ہیں اور جب وہ رونے لگتا ہے تو اس کے ساتھ خود بھی رونے لگ جاتی ہیں ۔ حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ انہوں نے بچے سے منسی کی مگر محض اس خیال سے کہ اس کے دل پر اس وقت کیا گزری ہوگی جب وہ روتا ہے تو خود بھی رو پڑتی ہیں ۔ میں نے ماؤں کو دیکھا ہے ہے وہ اپنے بچہ پر ناراض ہوتی ہیں اور اسے سے کسی کمر میں اکیلا بند کر دی ہیں پھر جب وہ کمرے میں رونے لگتا ہے تو اس سے لگتا ہے تو اس سے چمٹ کر رونے لگ جاتی ہیں اور کہتی ہیں میرے بیچتے کے دل پر اس وقت کیا گذر رہی ہوگی ۔ نرم ہم اپنے کئی بچوں میں سے کسی ایک بچے کی حقیقی تکلیف کا نہیں ایک خیالی تکلیف کا تصور کر کے ہی جبکہ ہم اسے کسی جنگل میں نہیں بلکہ اپنے گھر کے ایا بکرہ میں تھوڑی دیر کے لئے بند کر دیتے ہیں اتنی تکلیف محسوس کرتے ہیں یہ کہ اس کا اثر ایک لیے عرض یک