خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 14

۱۴ ر فرموده ۱۹ اکتوبر ۶۹ بمقام عیدگاه - قادیان) له وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ أَمِنَّا وَ اجْنُبْنِي وَبَنِي أن تَعْبُدَ الْأَصْنَامَهُ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ، فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّى وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمُه رَبَّنَا إِنَّهَ اسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرْتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ، رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا تُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ وَمَا يَخْفَى عَلَى اللهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الكِبَرِ اسْتَعِيلَ وَإِسْحَقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ آج کا دن انسان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ خدا تعالے کے لئے دی ہوئی کوئی چیز ضائع نہیں جاتی ۔ ہر ایک وہ چیز جو انسان صرف کرتا ہے۔ فنا ہو جاتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہر ایک وہ چیز جو انسان کے پاس ہوتی ہے فنا ہو جاتی ہے مگر جو چیز انسان خدا کے سپرد کر دیا ہے وہ کبھی فنا نہیں ہوتی ۔ آج کا دن ہمیں اسی بات کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ کئی ہزار سال گزر گئے قریبا چار ہزار سال ہو گئے کہ ایک انسان نے خدا کے لئے کچھ قربانی کی تھی۔ اللہ کے حکم کے ماتحت اس نے اپنی بیوی اور بچے کو ایک ایسے جنگل میں جس میں نہ پانی تھا نہ کھانا، ن محافظ تھا نگہبان ، لا کر ڈال دیا تھا پھر خدا تعالے نے اس قربانی کو ایسا قبول کیا کہ گوچارہ ہزار سال گزر گئے مگر آجنگ لوگ اسے بار بار یاد کرتے ہیں اور کوئی سال ایسا نہیں گذرتا کہ اس قربانی کو یاد نہ کیا جاتا ہو۔ بہت سے لوگ خدا کے حضور اسی کی یاد میں قربانیاں گزارتے ہیں ۔ میرے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ روبیلہ کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں ۔ اسی رنگ میں پوری ہوئی کہ آپ حضرت اسمعیل کو ایک جنگل میں چھوڑ گئے ۔ یہی حقیقی تعبیر تھی اس رویا کی ۔ وہ دراصل ایک پیشگوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جبکہ تم خدا کے حکم کے ماتحت اپنے لڑکے کو ایسے جنگل میں جہاں بظاہر زیست کا کوئی سامان نہ ہو گا۔ چھوڑ آؤ گے اور اس کی بجائے قربانیاں ہوا کریں گی کیا چنانچہ حضرت ابرا ہستیم کو سہی دکھا یا گیا کہ دنبہ ذبح کرو جس کو انہوں نے کر دیا ۔ اب اسی کی یاد میں قربانیاں ہوتی ہیں۔ -