خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 211

۲۱۱ سلامی ابراہیم علیہ السلام کی نیکی اور بعض نشانات دیکھئے اپنی لڑکی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بیاد دی تھی لیکن پرانے زمانہ میں قاعدہ تھا اور اب بھی ہندوؤں میں ہے کہ وہ ہندوؤں میں ہے کہ وہ پہلی بیوی کو اعلی بیوی قرار دیتے ہیں اور دوسری بیویوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ اس کے ماتحت ہیں لیے چنانچہ مسلمانوں ہیں اور ہندوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ مسلمان تمام بیویوں کو کیساں قرار دیتے ہیں ۔ مگر هند و لوگ صرف پہلی بیوی کو بیوی سمجھتے ہیں اور دوسری بیویوں کو اس کا ماتحت قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی جہاں ہندووانہ رسوم کا نہ رسوم کا اثر ہے جب کسی شخص کی دو بہ اله کسی شخص کی دو بیویاں ہوں تو اس کے عزیزہ پہلی بیوی کے متعلق تو یہ کہتے ہیں کہ یہ بیاھی ہے اور دوسری بیوی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ نکاحی ہے لیے حالانکہ جو سیاہی ہوئی ہوتی ہے وہ نکامی بھی ہوتی ہے۔ اور بے نکاحی کہتے ہیں وہ بھی یا ہی ہوتی ہے ۔ مگر وہ ان الفاظ سے دونوں میں فرق کرتے اور یہ بتلاتے ہیں کہ ایک ان میں سے اصل بیوی ہے، اور دوسری بعد کی بیوی ہے ۔ مگر اسلام نے اس امتیانہ کو بالکل مٹا دیا اور سب بیویوں کا حق برا بر تسلیم کیا ہے یہ لیکن پہلے زمانہ میں بڑی بیوی کو فوقیت دی جاتی تھی یعنی گھر عله کی مالکہ صرف وہی سمجھی جاتی تھی ۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے باوجود بڑی خواہش ، بڑے اراد دیں اور بڑے چاؤ کے ساتھ شادی کرنے کے بچہ پیدا ہونے کے بعد جب دیکھا کہ اللہ تعالے کی طرح سے مجھے یہ حکم ملا ہے کہ ہمیں اس کو اس کی راہ میں قربان کردوں تو وہ فورا اس کو قربان کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے رویا دیکھا تھا کہ میں اپنے بیٹے اسمعیل کو ذبح کر رہا ہوں ۔ وہ یہ رویا دیکھتے ہی اس بات بات پر آمادہ ہو گئے کہ یکین اسمعیل کو ذبح کردوں ۔ حالانکہ ذبح کرنے سے مراد اسمعیل کو چھری سے ذبح کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں جا کر چھوڑ آؤ ۔ یہی ان کے خواب کی تعبیر تھی اور یہی بات اللہ تعالے نے ان کو بتائی تھی مگر چونکہ تعبیر اپنے وقت پر ظاہر ہوا کرتی ہے ۔ اس لئے ان کا ذہن اس وقت اس طرف نہیں گیا کہ اللہ تعالے اس خواب کے ذریعہ مجھے یہ بتا رہا ہے۔ کہ ایک دن تم ماتحت اپنے اکلوتے بیٹے سے وہ معاملہ کرو گے جو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ اور ہمارے حکم کے ما تمہیں اسے ایک ایسے علاقہ میں چھوڑ کر آنا پڑے گا جہاں میلوں میل تک نہ کھانے کا کوئی سامان ہو گا نہ پینے کا۔ انہوں نے اس خواب کو ظاہری رنگ میں پورا کرنے کے لئے اپنے بیٹے کو گرایا اور چاہا کہ اسے ذبح کر کے اللہ تعالیٰ کے منشاء کو پورا کردیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں المساما فرمایا کہ جانے دو، تم نے تو ظاہری شکل میں بھی خواب پوری کردی لیکن انسان دوسرے کی باتوں کو شنگران جذبات اور احساسات کا قیاس نہیں کر سکتا جو دوسرے کے دل میں پیدا ہورہے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کی اپنی مرغی بھی مر جائے تو اُسے جتنا درد ہوتا ہے اتنا درد اسے دوسرے