خطبات محمود (جلد 2) — Page 210
۲۱۰ دونوں نمازیں ادا کرنے کی توفیق ہو تو دوسرے کو نہیں چاہئیے کہ ان پر اعتراض کرے اور کہے کہ انہوں نے رخصت سے فائدہ نہ اٹھایا ہے پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ہمارے لئے دو عیدیں جمع ہیں جن میں سے پہلی عید تو ہم پڑھ چکے ہیں اور اس کا تختہ خطبہ کے ذریعہ ادا کر رہے ہیں۔ یہ عید ایک ایسی قربانی کی یادگار ہے جس نے ہم کو دو نہایت اعلیٰ درجہ کے سبق دیتے ہیں۔ اور بھی سبق دیتے ہیں مگر اس وقت میرے مضمون سے چونکہ ان دو سبقوں کا ہی تعلق ہے اس لئے میرے مضمون کے لحاظ سے اس عید نے ہمیں دو اعلیٰ درجہ کے سبق دیتے ہیں۔ ایک تو یہ سبق دیا ہے کہ اللہ تعالے کے راستہ میں بندہ کو قربانی کرنے میں کبھی نسل سے کام نہیں لینا چاہئیے ۔ اور دوسرا سبق یہ دیا ہے کہ خدا تعالے کے راستہ میں بچی قربانی کرنے والا کیمی صنائع نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالی کے راستہ میں قربانی پیش کرنے کی جرات اور اس میں فراخ حوصلگی کی مثال تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے کہ بڑھاپے کی عمر میں جبکہ آپ نو سے سالی کے ہو چکے تھے آپ کو ایک بچہ ملتا ہے ۔ یہ نہیں کہ آپ کو اس بچہ کی خواہش نہ تھی۔ اس لئے کہ آپ نے کئی شادیاں محض نرینہ اولاد کے حصول کے لئے کیں۔ لے کیں۔ چنانچہ دو تو نچہ دو تو مھر عورتوں سے سے شادی کے ادی کی ہے جن میں سے ایک حضرت سارہ مرشد نیست اور ایک حضرت ہاجرہ تھیں۔ ان کے علاوہ بعض لونڈیوں سے بھی آپ نے شادی کی ۔ اور اس اور اس ارادہ سے کی کہ کوئی بچہ پیدا ہو۔ میں نے حضرت ہاجرہ کے متعلق کہا ہے کہ وہ خود تھیں اور به عیسوی تاریخ اور بائیبل کے خلاف ۔ ہے۔ عیسائی تاریخ انہیں آزاد قرار نہیں دیتی بلکہ کہتی ہے کہ وہ لونڈی تھیں ہے لیکن خود بائبل کے ہی بعض واقعات اسے غلط قرار دے رہے ہیں۔ کیونکہ بائبل نے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور حضرت اسحق علیہ السلام کی اولاد کا جو مقام تجویز کیا ہے ۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری اولاد کو شامل نہیں کیا ۔ اگر حضرت ہاجرہ لونڈی ہو گیا تو بائبل ان کی اولاد سے وہی سلوک کیوں نہ کرتی جو اس نے دوسری بیویوں کی اولاد سے کیا۔ در حقیقت عیسائی مورخین کو حضرت ہاجرہ سے بغض تھا اور اس شخص کی وجہ سے انہوں نے آپ کو لونڈی قرار دے دیا۔ اور چونکہ جھوٹے الزام ہمیشہ الزام لگانے والوں پر لوٹ پڑا کرتے ہیں اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے تو حضرت ہاجرہ پر یہ الزام لگایا کہ وہ مصر کی لونڈی تھیں اور خدا تعالے نے اس کی پاداش میں اس قوم کو کئی سو سال تک حضرت ہاجرہ کی قوم کا غلام بنا دیا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت ان کی حالت بالکل غلاموں کی طرح تھی اور وہ حضرت ہاجرہ کی قوم کے ماتحت تھے۔ تو حضرت ہاجرہ اور حضرت سارہ دو بیویاں آزادوں میں سے تھیں اور حضرت ہاجرہ تو شہزادی تھیں ۔ چنانچہ مصر کے شاہی خاندان کے افراد نے اس وجہ سے کہ انہوں نے حضرت دے