خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 209

۲۰۹ چنانچہ انہوں نے لوگوں پر زور دنیا شروع کر دیا کہ گوہ کھانی چاہئیے ۔ اور انہوں نے اس پر اتنا ز دی دیا کہ اچھی خاصی تبلیغ ہو گئی ۔ مجھے بھی بھی ایک دفعہ انہوں نے نے پندرہ بیس منٹ تک خوب تبلی کی اور پھر ہماری نانی جان صاحبہ مرحومہ سے گھر میں گوہ بچوائی تو مجھے بھی کہا کہ کھاؤ۔ میں نے اس وقت ان کے اصرار پر ارادہ کیا کہ گوہ کا گوشت کھا کر دیکھوں، مگر اسے دیکھ کر مجھے سخت کر اہت آئی اور میں واپس لوٹ آیا۔ ان دنوں کچھ دن تک وہ حدیث کی کتاب نا نا صاحب مرحوم اپنے ساتھ رکھتے تھے اور جو بھی ملتا اسے دکھاتے اور پھر پوچھتے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و وسلم سلم کے دستر خوان پر یہ کھائی گئی ہے تو تم کیوں نہیں کھاتے ۔ ایک دفعہ انہوں نے نے مجھے وہ حدیث کی کتاب دی اور حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی ) رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا کہ جب اس حدیث سے ثابت ہے کہ گوہ کا گوشت کھانا جائز ہے۔ تو آپ کو اس کے کھانے پر کوئی اعتراض تو نہیں یہ وہی حدیث تھی جس کے ایک حصہ میں یہ آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے جب پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا ہمارے ملک میں چونکہ اس کے کھانے کا رواج میں اس لئے ہیں نہیں کھاتا اگر اور کوئی کھانا چاہے تو بے شک کھالے ۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعا لٰے عنہ کے پاس جب میں یہ حدیث لے کر گیا اور میر صاحب کی بات کا آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا۔ لیکن اس حصے پر عمل کرتا ہوں میر صاحب دوسرے حصہ پر عمل کو لیں۔ یہی میں نے بھی انہیں جواب دیا۔ کہ میں اس حصہ پر عمل کرتا ہوں جس میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ۔ ہم جمعہ ہی پڑھیں گے اور اگر کوئی دوسرے حصہ پر عمل کرنا چا ہتا ہے۔ تو وہ اس خطہ پر عمل کرلے۔ مگر وہ مجھے کیوں مجبور کرنا چاہتا ہے ۔ کہ میں بھی اس دوسرے حصہ پر عمل کروں۔ تو آن دو عیدیں جمع ہیں۔ ہمارے ملک کی ایک پنجابی مثل ہے کہ دو دو تے چوپڑیاں چونکہ خدا تعالے کی دین کا بندہ قیاس بھی نہیں کر سکتا اور وہ اپنے بخل کو دوسرے کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔ اس لئے ہمارے ملک میں یہ مثل ہے کہ دو دو تے چوپڑیاں یعنی ایک تو دو دو روٹیوں کی خواہش رکھنا اور پھر یہ بھی کہنا کہ ان پر گھی بھی لگا ہوا ہو۔ حالانکہ گھی والی تو ایک روٹی ہی کافی ہوا کرتی ہے۔ مگر دیکھو ہمارا رب کیسا سخی ہے کہ اس نے ہمیں دور کو دیں اور پھر چپڑی ہوئی دیں ۔ یعنی جمعہ بھی آیا اور عید الاضحیہ بھی آئی اور اس طرح دو عیدیں خدا تعالے نے ہمارے لئے جمع کر دیں ۔ اب جس کو دو دو جڑی ہوئی چپاتیاں ملیں وہ ایک کو رد کیوں کرے گا، وہ تو دونوں لے گا سوائے اس کے کہ اسے کوئی خاص مجبوری پیش آجائے۔ اور اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی ہے۔ کہ اگر کوئی مجبور ہو کہ ظہر کی نماز پڑھ لے جمعہ نہ پڑھے تو دوسرے کو نہیں چاہیے کہ اس پر طعن کرے اور اگر بعض لوگ ایسے ہوں جنہیں