خطبات محمود (جلد 2) — Page 208
۲۰۸ ۲۶ د فرموده از فروری ۱۹۳ ء بمقام عیدگاه قادیا چونکہ اسی ہفتہ میں لاہور کے کالجوں کے احمدی طالب علموں کے آنے کی وجہ سے مجھے گلے کی تکلیف کے باوجود ایک لمبی تقریر کرنی پڑی تھی اس لئے اس دن سے میرا گلا بہت ہی بیٹھا ہوا ہے اور جلسہ سالانہ کے بعد کی گلے کی تکلیف میں جو کمی ہوئی تھی اس میں پھر اضافہ ہو گیا ہے ۔ اس وجہ سے شاید میں اپنی آوازہ دوسروں تک اچھی طرح نہ پہنچا سکوں یا شاید ایک حصہ تک بالکل ہی نہ پہنچا سکوں اور پھر آج تو دو خطبوں کا دن ہے یعنی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو گئے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا، جب جمعہ اور عید جمع ہو جائیں تو اجازت ہے کہ جو لوگ چاہیں جمعہ کی بجائے ظہر کی نمانہ ادا کر لیں۔ مگر فرمایا۔ دوست ہم تو جمعہ ہی پڑھیں گے لیے کل بھی بہ بھی میرے پاس ایک مفتی صاحب کا فتوی آیا تھا کہ بعض د کتے ہیں اگر جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز ہو جائے تو قربانیوں میں ہم کو سہولت ہو جائے گی اور انہوں نے اس قسم کی حدیثیں لکھ کیساتھ ہی بھیجوا دی تھیں ۔ میں نے ان کو یہی جواب دیا تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ، جمعہ اور عید جب جمع ہو جائیں تو جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ مگر ہم تو وہی کریں گے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا اگر کوئی جمعہ کی بجائے ظہر پڑھنا چاہیے تو اسے اجازت کی بجائے ظہر پڑھنا چاہیے۔ ہے مگر ہم تو جمعہ ہی پڑھیں گے۔ میں نے انہیں کہا۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ جو شخص چاہے آج جمعہ کی بجائے ظہر پڑھ لے۔ مگر جو ظہر پڑھنا چاہتا ہے وہ مجھے کیوں مجبور کرتا ہے کہ میں بھی جمعہ نہ پڑھوں میں تو وہی کہوں گا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم جمعہ ہی پڑھیں گے ۔ ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے کہیں حدیث میں دیا حدیث دیکھا که گوه رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دستر خوان پر کھائی گئی تھی۔ چونکہ وہ احمدیت سے پہلے اہل حدیث میں شامل تھے اس لئے ان کے دل میں یہ جوشش رہتا تھا کہ ہر حدیث پر عمل کیا جاتا ره احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن لاہور کے وہ طلباء کے علاوہ بعض خیر احمدی طلباء بھی تھے جن سے حضور رضی اللہ عنہ نے جامعہ احمدیہ کے ہوسٹل میں دعوت چائے کے موقعہ پر تین گھنٹے تک خطاب فرمایا تھا۔