خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 205

۲۰۵ نا ممکن بات نہیں ہے کیونکہ ابراہیم کوئی خدا کا سگا بیٹا نہ تھا اور ہم کوئی سوتیلے بیٹے نہیں ہیں۔ کمی خدا کی طرف سے نہیں ہے بلکہ کمی ہماری طرف سے ہے ۔ دنیا میں عاشق ہاتھ پھیلائے بیٹھے رہتے ہیں اور معشوق منہ پھلائے بیٹھے رہتے ہیں۔ مگر روحانی دنیا نوالی ہے۔ ہمارا معشوق ہاتھ پھیلا۔ پھیلائے بیٹھا ہے اور ہم اور ہم میں سے کچھ بد قسمت ہیں جو مونسہ پھیرے بیٹے ہیں اگر سوئے ادبی نہ ہوتی اور انسانی الفاظ خدا تعالے کے لئے استعمال کرنے جائز ہوتے تو ہیں کہتا۔ اسے نادان انسان دیکھ تو سہی، تیرا معشوق تیرا خدا کب سے تیری طرف ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے اتنی دیر سے کہ اتنی دیر میں انسان کی تو رگوں کا خون بھی خشک ہو جاتا ہے۔ مگر وہ تمثیلوں سے بالا ہے ، وہ قصوں سے پاک ہے، وہ عیبوں سے مبرا ہے۔ وہ تمہار ا منتظر ہے مگر تمہارا انتظار اس کی بادشاہت میں کمی نہیں پیدا کرتا۔ وہ تمہاری طرف بڑھتا ہے مگر تمہاری ہے رنبی اس کی شان میں کمی نہیں کر سکتی۔ کیونکہ وہ سب نقائص سے پاک ہے۔ اور تمام کمزوریوں سے بالا ہے انسانی زبان اس کی صفات کی حقیقت کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اور انسانی الفاظ اس کی محبت کی کیفیت کو ادا ہی نہیں کر سکتے۔ وہ عاشقوں کے عشق سے زیادہ جوش والی وہ ماں باپ کے جذبات سے زیادہ نازک، وہ دوستوں کی دوستی زیادہ گرم ہے لیکن پھر بھی وہ اس ہ اس کی اذیت کا موجب نہیں ہوتی۔ اور اس کی شان کی کمی کا باعث نہیں ہوتی ۔ وہ راغب ہو کر بھی بالا ہے اور انسان مستغنی ہو کر بھی ہیٹا ہے ۔ وہ متوجہ ہو کر بھی بڑا ہے اور یہ منہ پھیر کو بھی چھوٹا ہے کیونکہ اس کی توجہ احتیاج کی توجہ نہیں ہے بلکہ رحم کی توجہ ہے اور اس کی تڑپ کمزوری کی تڑپ نہیں ہے بلکہ علم کی تڑپ اور مسلم کی ٹرپ ہے۔ مگر انسان ان باتوں کو نہیں دیکھتا۔ وہ قدم آگے اُٹھانے کی کوشش نہیں کرتا ۔ وہ اس بات کا عادی ہو گیا ہے کہ تھیٹروں میں جائے اور چھوٹے بادشاہوں کی شان و شوکت کو دیکھے اور بدبخت یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے گھر میں اس وقت ایک خلعت شاہانہ اور ایک تاج اس کے پیدا کرنے والے کی طرف سے آیا ہوا ہے ۔ اور ایک بادشاہت کا پروانہ اس کے لئے لکھا ہوا موجود ہے۔ وہ دوسروں کے ایکٹ دیکھنے پر فدا ہوتا ہے مگر اپنی بادشاہت سے مونہ موڑ لیتا ہے۔ سے قسمت ہے ایسا انسان ۔ کاش اس کی ماں اسے پیدا نہ کرتی کہ وہ اپنے وجود میں انسانیت کے لئے عار ہے بلکہ حیوانات کے لئے بھی باعث تنگ ہے کہ وہ بے عقل ہو کہ خدا کی تسبیح کو بلند کرتے ہیں لیکن یہ معقلمند ہو کر بھی اس سے غافل رہتا ہے اُسے آنکھیں دی گئیں مگر اس نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا اسے کان دیئے گئے ۔ مگر اس نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا۔ اسے ناک دیا گیا مگر اس نے