خطبات محمود (جلد 2) — Page 200
۲۰۰ موجود نہیں ہیں اور اس نے کہا ۔ اے خدا! کیا اگر ایک سو نیک بندہ ہو گا تو تو اس کو تباہ ہونے دے گا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے کہا ۔ نہیں اگر ایک سونیک بندہ بھی ہو ا تب بھی میں اس شہر کو تباہی سے بچالوں گا تب ابراہیم نے سوچا شاید سونیک بندہ بھی اسی شہر میں نہیں ہے اور اس نے دعا کی اے میرے خدا۔ اے میرے خدا ! جو سو نیک بندوں کے لئے اس شہر کو بچانے کے لئے آمادہ ہے اگر صرف دس اس میں سے کم ہوں اور نوے نیک بندے اس جگہ پر موجود ہوں تو کیا تیری سی رحیم ہستی صرف دس آدمیوں کی کمی کیوجہ سے اس شہر کو تباہ ہونے دے گی نب خدا نے کہا۔ اسے ابراہیم! اگر نوے نیک بندے بھی اس شہر میں موجود ہوئے تو میں تیری خاطر اس کو تباہی سے بچالوں گا تب ابراہیم پھر نئے جوش سے دعا کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے خدا تعالیٰ سے عرض کیا کہ اسے میرے رحیم خدا ۔ جو ٹو کے نیک بندوں کی خاطر اس علاقے کو بچانے کے لئے تیار ہے اگر صرف دس نیک بندے اس میں سے کم ہوں اور صرف انتی نیک بند نے اس میں پائے جائیں ۔ اے میرے رب کیا تو اُن اسنٹی کی خاطر اس شہر کو نہیں بچائیگا تب اللہ تعالے نے فرمایا۔ اسے ابراہیم آئیں ان انتی کی خاطر بھی اس شہر کو بچا لوں گا۔ اور ابراہیم کی امید اور بھی کم ہو گئی اور وہ سمجھ گیا کہ اس شہر میں انٹی نیک بندے بھی موجو د نہیں ہیں۔ مگر اس نے دعا نہ چھوڑی اور دس دس کے فرق کے ساتھ وہ خدا کی رحمت کو جوش میں لاتا گیا یہاں تک کہ آخری دعا اس کی یہ تھی کہ اے میرے خدا۔ اسے میرے خدا۔ دس نیک بندے بھی تو بڑی چیز ہیں ۔ اگر دس نیک بندے اس شہر میں پائے جاتے ہوں تو اسے میرے رب کیا تو اس شہر کو ہلاک ہونے دے گا۔ اللہ تعا قالے نے جواب دیا ۔ ابراہیم میں تیرے درد کی خاطر دس نیک بندوں کی موجودگی میں بھی اس شہر کو بچا لونگا ئیے لیکن ابراہیم اس میں تو دس نیک بندے بھی موجود نہیں۔ تب ابراہیم نے سمجھ لیا کہ لوظ اور اس کی اولاد کے سوا اس شہر میں سے کوئی بچائے جانے کے قابل نہیں ہے، اور اس نے جان لیا کہ ان کمزور اور گنہگار بندوں کے بچانے کے لئے جو لوط کی بستیوں میں بستے تھے شفاعت کے تمام سامان ختم ہو گئے اور وہ اس بارے ہیں میں بالکل بے بس اور بے طاقت ہے اور وہ درد اور دکھ کے ساتھ اپنی ہی جان کو ہلکان کرتا ہوا خاموشی سے بیٹھ گیا۔ اور اس کے دل کا یہ درد اور اس کے جذبات کی یہ نزاکت اللہ تعالے کو ایسی پسند آئی کہ اللہ تعا لئے قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَعَلِيمُ اذَا مَنِيْب ۔ ابراہیم کو دیکھو کہ یہ ہمارا بندہ کیسا دانا۔ پھر کیسا دردمند ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی تکلیف پر آہیں بھر نے لگ جاتا اور دکھ اور تکلیف محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔ اور ہمارا بھی کیسا عاشق ہے۔ یہ کیسے پیارے الفاظ ہیں جن میں خدا تعالئے ابراہیمی کو یاد کرتا ہے۔ اب اگر ہم تمثیل کی نگاہوں سے