خطبات محمود (جلد 2) — Page 198
۱۹۸ میں ہوں ں نہیں وہ اپنے ہاتھوں سے پرے پھینک دیے گی اور اپنے بچے کو اپنے گلے سے لیٹا کر پیار کرتے ہوئے کہیگی کہ میرے پیارے بچے تو رو نہیں میں تجھے دوائی نہیں پلاتی۔ یہاں عمل مختلافات ہے مگر جذبہ ایک ہے ۔ وہ تعلیم یافتہ ہو یافتہ عورت دوائی پلاتے وقت اور وہ جاہل عورت دوا دوائی پھینکتے وقت ایک ہی روح سے متاثر ہو رہی تھیں ایک دوائی کے پلانے میں اپنے بچے کا آرام دیکھتی تھی تو دوسری وائی کے پھینکنے اس کی راحت پاتی تھی پس تم اس قسم کے فرق تو ضرور دیکھو گے لیکن جذبہ نظر نہ آئے گا۔ کالے اور گورے مشرقی اور مغربی ، جاہل اور عالم، مذہبی اور خیر ند مہی، ہر ایک قسم کے انسان کو اس جذبے سے متاثر پاؤ گے اور ان کو اسی جذبہ کے ماتحت اپنی زندگیاں بسر کرتے ہوئے دیکھو گے پس اولاد کی محبت ایک ایسا طبیعی چند یہ ہے جو صرف دیوانوں اور انسانیت سے خارج انسانوں کے دلوں سے ہی باہر ہوتا ہے ورنہ ہر انسان اس سے متاثر ہوتا ہے اور اس کے ماتحت اپنی زندگی کے اعمال بجالاتا ہے۔ خواہ خدا تعالے کی خوشنودی کے لئے خواہ صرف حیوانی جذبہ سے متاثر ہو کر۔ پس آج کی عید ہمیں اس جذبے کی قربانی کی طرف راہنمائی کرتی ہے جو انسانی جذبات میں سے قوی تر اور وسیع تر ہے قوی ہے کہ اس سے زیادہ قوی کوئی اور انسانی جذبہ نہیں۔ اور وسیع ہے کہ اس سے زیادہ وسیع کوئی اور انسانی جینہ یہ نہیں ۔ آج کے دن ہزاروں سال پہلے ابراہیم نے خدا سے حکم پایا کہ وہ اس چیز کو حبس کو دنیا سب سے زیادہ عزیز قرار دیتی ہے اور جس کی زندگی کے لئے دنیا بھر کے باپ اور ماں زندہ رہ رہے ہیں ، وہ خدا کے لئے اسے قربان کر دے۔ ابراہیم کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنے رب سے یہ نہیں پوچھا کہ اسے کبیر خدا ! یہ جذبہ لطیف جو باپ کے دل میں اپنے بیٹے کی محبت کے متعلق پیدا ہوتا ہے یہ تو تیرا ہی پیدا کیا ہوا ہے اور ایک مقدس امانت ہے اس مقدس امانت کی قربانی کا مطالبہ کیا ایک غیر طبعی حکم نہیں ہے اور کیا اس ماں کے جذبات کو جس کی تمام امیدیں اس ایک نقطہ کے ساتھ وابستہ ہیں، ایک ایسی ٹھیس نہیں لگے گی جس کا ازالہ بالکل ناممکن ہو گا ۔ ابراہیم بھول گیا اپنے جذبات کو اور وہ بھول گیا ہاجرہ کے جذبات کو ۔ وہ بھول گیا اپنے آباء کی ام کی ارواح کے جذبات کو جو ابراہیم کے ذریعہ سے اپنی نسلوں کے دوام کی امید وار تھیں امیدوار اور ایک ایسی حالت میں جب کہ وہ بوڑھا تھا اور ایک نہی اس کی اولاد تھی وہ اس ایک ہی اولاد کو ایسے وقت میں جبکہ دوسری اولاد کی امید نہیں کی جا سکتی تھی ۔ قربان کرنے کے لئے تیار ہو گیا بغیر ہچکچاہٹ کے بغیر سوال کے بغیر تشریح طلب کرنے کے بے چون و چرا ۔ گویا کہ یہ ایک ایسا عام واقعہ ہے جس میں کوئی بھی تعجب کی بات نہیں یا ایک ایسا فرض ہے