خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 197

۱۹۷ عزت یا کچھ جائیداد یا کچھ روپیہ یا کچھ رتبہ یا کچھ آرام حاصل کر کے اپنی اولادوں کو ورثہ میں دے دیں ۔ نہ آج اس کے خلاف کوئی بات نظر آتی ہے نہ پچھلی صدی میں اس کے خلاف لوگوں کا دستور تھا ۔ نہ اس سے پہلی صدی کے لوگ اس کے خلاف تھے۔ نہ اس سے پہلی صدی کے نہ اس سے پہلی کے ۔ آج سے لے کر آدم تک ۔ آدم کا ہر بچہ اور حوا کی ہر بیٹی سوائے اس کے جو انسانیت سے خارج ہو گیا ہو صرف ایک ہی کام میں مشغول نظر آتا ہے کہ اپنے آپ کو قربان کر دے اور اپنی اولاد کو آرام اور راحت بخشے۔ یہ عجیب مسلسل - پیم اور متو اللہ قربانی ہے جس کی مثال شاید کسی اور جذبے میں ملنی مشکل ہو ۔ ہو۔ چلے جاؤ فلاسفروں کے گھروں جو انسانی نگاہ سے اوجھل ہو۔ چلے جاؤ یہ ایسی چیز نہیں ہے جو انسان پس یہ اب میں میں یا چلے جاؤ اجد اور جاہل لوگوں جاہل لوگوں کے گھروں میں ۔ چلے جاؤ شہریوں کے گھروں ، یا چلے جاؤ گنواروں اور دور دراز گاؤں میں رہنے والوں کے گھروں میں ۔ وہاں اس بات کا مشاہدہ کر کے دیکھ لو کہ ایک باپ اور ایک ماں اپنی جان کی قیمت زیادہ سمجھتے ہیں یا اپنی اولاد کی قیمت زیادہ سمجھتے ہیں۔ تمھیں ہی نظر آئے گا کہ وہ سب کے سب الا ماشاء اللہ اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہیں۔ اور پیدائش مخلوق کا ایک ہی مقصد ان کے سامنے ہے کہ وہ اپنی اولادوں کی راحت اور آرام اور ترقی کے سامان پیدا کریں اورا اور اس امر میں غلطی کر سکتے ہیں که اولاد کو راحت کسی طرح حاصل ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کوئی علم میں اس کی راحت سمجھتا ہو اور کوئی جہالت میں اور کوئی محنت میں ان کی راحت سمجھتا ہو اور کوئی آرام طلبی میں لیکن اپنے نقطہ نگاہ کے ماتحت جس جس ج ت میں جس چیز کو وہ راحت اور آرام کا سبب سمجھتے ہیں اس اس چیز کو و محاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور اپنی اولادوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ہاں اگر اپنے بچے کی بہتری اس میں خیال کرتی ہے کہ اس کی بیماری کے ایام میں ڈاکٹر کی کڑوی کڑوی دو ایکس اس کو پلائے۔ تو وہ تمہیں اپنے بچے کی لاتیں اپنی لاتوں میں دبائے ہوئے اور اس کا سر اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے چھیچھے سے اس کے منہ میں دوائی ڈالتی ہوئی نظر آئے گی۔ اس کے بچے کے آنسو اس کی آنکھوں میں آنسو لا رہے ہوں گے اور اس کی تکلیف اس کے دل میں درد پیدا کر رہی ہو گی لیکن وہ اپنے فعل سے باز نہیں آئے گی کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس کے بچہ کی راحت اس دوا کے پلانے میں ہے۔ اسی طرح ایک جاہل عورت جو اس عارضی تکلیف کو بیماری کی مستقل تکلیف سے زیادہ سمجھتی ہے یا جس کا یہ خیال ہے کہ صحت تو خدا ہی کی طرف سے آتی ہے ، دوائیاں تو صرف ایک بہانہ ہیں۔ قضا و تدریجی طرح جاری ہوئی ہے جاری ہو کر رہے گی تم اسے دیکھو گے کہ اپنے خاوند کی لائی ہوئی دوائی کو