خطبات محمود (جلد 2) — Page 193
۱۹۲ آج نہیں ۔ آج بھی قربانی کا موقعہ ہے۔ آج بھی تم میں سے ہر شخص دین کے لئے اسمعیل بن سکتا ہے آج بھی تم میں سے ہر عورت دین کے لئے ہاجرہ بن سکتی ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں داخل ہو کہ روحانی طور پر سب لوگ ہاجرہ اور اسمعیل کی اولاد ہو چکے ہیں۔ پس میں ہاجرہ کی بچیوں سے کہتا ہوں کہ تم اپنی ماں کی صفات اپنے اندر پیدا کرد اور سے میں اسمعیل کی اولاد سے کہتا ہوں کہ تم اپنے باپ کی صفات اپنے اندر پیدا کرو۔ تمہار ارب آج بھی اسی طرح قربانی کا مطالبہ کرتا ہے جس طرح اس نے حضرت ابراہیم کے ذریعہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل سے مطالبہ کیا۔ کیونکہ اس زمانہ کے مامور کو بھی خدا تعالے نے ابراہیم کیا۔ اور اس نے لوگوں سے کہا کے میں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہوں نیزا براہیم ہوں نکلیں ہیں میری بے شمار لله کو پس پر شخص آج بھی اسمعیل بن سکتا ، اور ہر عورت آج بھی ہاجرہ بن سکتی ہے کیونکہ اس زمانہ ہیں میں شخص کو خدا تعالے نئے ہمارا روحانی باپ قرار دیا ہے اس کا نام اس نے ابراہیم نے نے ابراہیم رکھا ہے۔ پس تمہارے لئے آج بھی موقعہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اسمعیلی ثابت کرو۔ کرو۔ اور یاد رکھو جو لوگ خدا تو کی کی راہ میں مرتے ہیں وہ مرتے نہیں بلکہ زندہ ہوا کرتے زندہ ہوا کرتے ہیں اور اس زمانہ نے توبہ پہلی موت کی شکل بھی تبدیل کر دی ہے۔ پرانے زمانہ میں تلواروں اور چھریوں کے زخم کھا کر لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتے تھے یا بندوقوں کا نشانہ بن کر مرتے تھے لیکن اب عام طور پر اس قسم کی موت نہیں بلکہ وہ موت ہے جو دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقعت کرتے ہوئے آتی ہے کبھی کبھار پہلی قسم کی موت بھی آجاتی ہے۔ جیسے کابل میں ہماری جماعت کے بعض افراد شہید کئے گئے ہے یا ہندوستان میں بعض لوگ بیٹے جاتے اور اس تکلیف کی وجہ سے مر جاتے ہیں کیے مگر زیادہ تر موت وہی ہے جو اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے اور اسلام کے مطابق اپنی زندگی بنانے میں آتی ہے۔ ہمارے سلسلہ کو خدا تعالے نے اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ تمام برکات واپس لائے جو اس سے پہلے دنیا میں موجود تھیں یہیں اس سلسلہ کی غرض اور یہی اس کا مقصد ہے ۔ خدا تعالیٰ دنیا رمن اور اس کا ہے ۔ میں نئی بادشاہتیں قائم کرنا نہیں چاہتا۔ خدا تعالئے دنیا میں نئی حکومتیں قائم کرنا نہیں چاہتا خدا تعالئے دنیا میں نئی قوموں کو غلبہ دینا نہیں چاہتا۔ بلکہ خدا اس وقت صداقت کو غلبہ بینا چاہتا ہے اور یہی ہمارے سلسلہ کے قائم ہونے کی غرض ہے۔ پس تم اپنے اندر سچائی اور دیانت پیدا کرو۔ اور ان تمام احکام پر قائم رہو جو اسلام نے دیئے۔ اور یاد رکھوسی کی بھی معمولی چیز نہیں ہوتی۔