خطبات محمود (جلد 2) — Page 190
۱۹۰ کے بعد جب وہ اکلوتا بچہ اور بوڑھا باپ خدا تعالے کے حکم کو پورا کرنے کے لئے علیحدہ ہوئے ہونگے تو ان کے جذبات کا اندازہ لگانا ہر ایک کے لئے آسان کام نہیں ، صرف اہلِ دل ہی پوری طرح ان جذبات کو سمجھ سکتے ہیں بہت سے لوگ شاید ان کے درد کے جذبات میں شامل ہو سکتے ہیں اور اسی لئے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر سن کر بہت سے مردوں اور بہت سی عورتوں کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں گویا حضرت ابراہیم ہیم علیہ علیہ السلام السلام کے کے درد درد میں میں شریک ہونے والے موجود ہیں۔ مگر وہ لوگ بہت ہی کم ہیں جو اس جذبہ فخر کو محسوس کر سکتے ہیں جو اس وقت حضرت ابراہیم کے دل میں پیدا ہوا تھا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے اس وقت زمین زمین نہیں رہی تھی بلکہ عرش بریں بن گئی تھی ان کے پاؤں زمین پر نہیں پڑتے منے جبکہ وہ ہوا میں اُڑتے تھے کیو نکہ خدا نے اپنی راہ میں انہیں قربانی پیش کرنے کا حکم ، بات جسے کسی انسان نے پیش نہیں تعالے نے كم کیا تھا۔ بے شک بحیثیت انسان ان کے دل میں درد بھی ک در ضرور تھا خصوصا وہ ابراہیم جن کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ حلیم اور ادارہ تھا ۔ بات بات پر اس کے دل سے آہیں نکلتی تھیں اور وہ نہایت رحم دل تھا۔ یقینا اس کے دل میں درد بھی پیدا ہوا ہو گا مگر جو چیز حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور جو چیز حضرت معین کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ یہ جذبہ ہے کہ یہ قربانی ہماری ہی ترقی کا موجب ہے۔ اور خدا تعالے نے یہ حکم دے یہ حکم دے کہ ہم پر احسان کیا ہے۔ تم میں سے بہت حضرت ابر الله الهم علیه السلام کے غم میں شریک ہو سکتے ہیں۔ تم میں سے بہت ان کے درد میں شریک ہو سکتے ہیں۔ تمہارے دماغ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دماغ کی نقل کر سکتے اور تمہاری آنکھیں حضرت ابہ اہم علیہ السلام کی آنکھوں کی نقل کر کے آنسو بہا سکتی ہیں مگر تم میں سے بہت کم ان کے دل کی نقل کریں کے جو اس امید اور یقین سے پُر تھا کہ میرے رب نے مجھے اپنے لئے چن لیا۔ جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسمعیل کو ذبح کرنے کے لئے چھری اٹھائی تو اس وقت غالب خیال ان کے دل میں یہ نہ تھا کہ میرا بیٹا مجھ سے جدا ہو رہا ہے بلکہ یہ خیال غالب تھا کہ میرا خدا میرے قریب ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ خدا تعالے نے اس قربانی کو یا د رکھا اور نہ قربانیاں دنیا میں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں ۔ اس قربانی میں ایک امتیازی نشان تھا اور وہ یہ کہ حضرت ابراہیم کے دل میں درد اور غم کے جذبات غالب نہ تھے بلکہ یہ خیال غالب تھا کہ اللہ تعالے کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ مجھ سے کام لے رہا ہے ۔ پھر وہ جذبہ جو حضرت ابراہیم کے دل میں تھا وہ انہوں نے دوسروں کی طرف منتقل کر دیا تھا۔ گویا وہ اتنا غالب جند یہ تھا کہ ان کے پاس بیٹھنے والے لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے جس طرح آگ کے پاس بیٹھنے والا گرم