خطبات محمود (جلد 2) — Page 188
vvi ۲۴ د فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۳۷ء بمقام عیدگاه - قادیانا) آج کی عید قربانی کی عید کہلاتی ہے عربی زبان میں بھی اس کو عید الاضحیہ کہتے ہیں یعنی اسی عید میں میں قربانیاں کی جاتی ہیں۔ یہ عید ایک قربانی کی یادگار کے طور پر ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی ۔ ۔ قربانی ایک عجیب لفظ ہے جو کئی ایک متضاد جذبات کا جامع ہے۔ عام طور پر متضاد جن بات جمع نہیں ہوا کتنے اور جو الفاظ محبت پر دلالت کرتے ہیں وہ ساتھ ہی راحت اور آرام پر بھی دلات کرتے ہیں لیکن تکلیف اور دکھ پر دلالت نہیں کرتے۔ اور جو الفاظ تکلیف اور اور جو الفاظ تکلیف اور دُکھ کے مفہوم پر دلالت کرتے نے ہیں وه راحت ، آرام ، آرام اور محبت کے مفہوم پر دلالت نہیں کرتے۔ نہیں کرتے ۔ مگر قربانی ایک یسا جامع لفظ ہے جو جدائی اور وصال تکلیف اور راحت خوشی اور غم ان سارے ہی متضاد جذبات کا جامع اور ان پر مشتمل ہے ۔ یہ لفظ جس وقت ایک انسان کے قلب میں پیدا ہوتا ہے اور حبس وقت اس کے دماغ پر اس کا اثر ہوتا ہے ، وہ ایک ہی وقت میں یہ ساری باتیں محسوس کرتا ہے اور قربانی کا لفظ خود اپنی ذات میں اس کا ثبوت ہوتا ہے بلکہ اُردو میں جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ بھی وہی معنے رکھتا ہے جو توبی زبان کے لفظ کے ہیں۔ قربانی قرب پر بھی دلالت کرتی ہے اور ذبح ہونے پر بھی ۔ ذبح ہو کر یعنی اپنی جان اپنی جان خدا تعالے کے راستہ میں دیکھ انسان بظاہر اپنے عزیزوں سے جدا ہوتا ہے۔ مگر قربانی ایسی چیز ہے کہ وہ جدائی میں بھی شمال کے سامان پیدا کر دیتی ہے جس وقت ایک مسلمان سپاہی میدان جنگ میں مرکز بظاہر اپنے پیاروں سے جدا ہو رہا ہوتا ہے حقیقتاً وہ اپنے پیاروں کے قریب بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ سب سے پیارا وجود تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور جو شخص خدا تعالے کی راہ میں جان دیتا ہے وہ اپنے خدا کے قریب ہو جاتا ہے۔ پھر انسان کے جتنے عزیز اور پیار سے دنیا میں ہوتے ہیں ان ان سے زیادہ عزیز اور پیارے اگلے جہان میں ہیں جا جا چکے چکے ہوتے ہو۔ ہیں ۔ اگر دنیا میں کسی کا باپ زندہ ہے اور شہادت سے اس کے اور اس کے باپ کے درمیان جدائی ہو جاتی ہے۔ تو اس کے کئی دادے اور پڑھا دادے ایسے ہوتے ہیں جو سینکڑوں اور ہزاروں سال سے سے اگلے اگلے جہان میں اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر دنیا میں اس کی والدہ زندہ ہے اور وہ خدا تعالیئے کی راہ میں جان دے کر اس سے جدا ہوتا ہے تو اس کی کئی دادیاں اور نانیاں اس سے محبت کرنیوالی